تذکرہ — Page 72
۲۹ لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ وَ الْمُشْـرِکِیْنَ مُنْفَکِّیْنَ حَتّٰی تَـأْتِیَـھُمُ الْبَیِّنَۃُ وَکَانَ کَیْدُ ھُمْ عَـظِـیْـمًا۔۲۹ اور جو لوگ اہلِ کتاب اور مشرکوں میں سے کافر ہوگئے ہیں یعنی کفر پر سخت اصرار اختیار کرلیا ہے وہ اپنے کفر سے بجز اس کے باز آنے والے نہیں تھے کہ اُن کو کھلی نشانی دکھلائی جاتی اوراُن کا مکر ایک بھارا مکر تھا۔یہ اس بات کی طر ف اشارہ ہے کہ جو کچھ خدائے تعالیٰ نے آیا تِ سماوی اور دلائلِ عقلی سے اِس عاجز کے ہاتھ پر ظاہر کیا ہے وہ اتمامِ حجت کے لئے نہایت ضروری تھا اور اس زمانہ کے سیاہ باطن جن کو جہل اور خبث کے کیڑے نے اندر ہی اندر کھا لیا ہے ایسے نہیں تھے جو بجز آیاتِ صریحہ و براہین قطعیہ اپنے کفر سے باز آجاتے بلکہ وہ اُس مکر میں لگے ہوئے تھے کہ تا کسی طرح باغِ اسلام کو صفحۂ زمین سے نیست و نابود کردیں۔۳۰ اگر خدا ایسا نہ کرتا تو دنیا میں اندھیر پڑجاتا۔یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے جو دنیا کو ان آیات بیّنات کی نہایت ضرورت تھی اور دنیا کے لوگ جو اپنے کفر اور خبث کی بیماری سے مجذوم کی طرح گداز ہوگئے ہیں وہ بجز اِس آسمانی دوا کے جو حقیقت میں حق کے طالبوں کے لئے آبِ حیات تھی تندرستی حاصل نہیں کرسکتے تھے۔۳۱ وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُ۔وْا فِی الْاَرْضِ قَالُوْٓا اِنَّـمَا نَـحْنُ مُصْلِحُوْنَ۔اَلَآ اِنَّـھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُ۔وْنَ۔۳۲ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَـرِّ مَا خَلَقَ۔وَ مِنْ شَـرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ۔۳۱۔۔اور جب ان کو کہا جائے کہ تم زمین میں فساد مت کرو اور کفر اور شرک اور بد عقیدگی کو مت پھیلاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ہی راستہ ٹھیک ہے اور ہم مفسد نہیں ہیں بلکہ مصلح اور ریفارمر ہیں۔خبردار رہو۔یہی لوگ مفسد ہیں جو زمین پر فساد کررہے ہیں۔۳۲ کہہ میں شریر مخلوقات کی شرارتوں سے خدا کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں اور اندھیری رات سے خدا کی پناہ میں آتا ہوں۔یعنی یہ زمانہ اپنے فسادِ عظیم کے رُو سے اندھیری رات کی مانند ہے۔سو الٰہی قوتیں اور طاقتیں اِ س زمانہ کی تنویر کے لئے درکار ہیں۔انسانی طاقتوں سے یہ کام انجام ہونا محال ہے۔۳۳۔اِنِّیْ نَاصِـرُکَ۔۳۴۔اِنِّیْ حَافِظُکَ۔۳۵۔اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۔۳۶ اَ۔کَانَ لِلنَّاسِ عَـجَبًا۔۳۷۔قُلْ ھُوَ اللّٰہُ عَـجِیْبٌ۔۳۸۔یَـجْتَبِیْ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ۔۳۹۔لَا یُسْئَلُ عَـمَّا