تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 1089

تذکرہ — Page 73

یَفْعَلُ وَھُمْ یُسْئَلُوْنَ۔۴۰ وَ تِلْکَ الْاَ یَّـامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ۔۳۳ میں تیری مدد کروں گا۔۳۴ میں تیری حفاظت کروں گا۔۳۵ میں تجھے لوگوں کے لئے پیش رَو بناؤں گا۔۳۶کیا لوگوں کو تعجب ہوا۔۳۷کہہ خدا ذوالعجائب ہے۔ہمیشہ عجیب کام ظہور میں لاتا ہے۔۳۸جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے چُن لیتا ہے۔۳۹ وہ اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا کہ ایسا کیوں کیا اور لوگ پوچھے جاتے ہیں۔۴۰ اور ہم یہ دن لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں۔یعنی کبھی کسی کی نوبت آتی ہے اور کبھی کسی کی اور عنایاتِ الٰہیہ نوبت بہ نوبت اُمت ِ محمدیہ کے مختلف افراد پر وارد ہوتی رہتی ہیں۔۴۱۔وَقَالُوْٓا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔۴۲۔وَقَالُوْٓا اِنْ ھٰذَا اِلَّا اخْتِلَاقٌ۔۴۳۔اِذَا نَصَـرَ اللّٰہُ الْمُؤْمِنَ جَعَلَ لَہُ الْـحَاسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ۔۴۴۔فَالنَّارُ مَوْعِدُ۔ھُمْ۔۴۵۔قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَ رْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ۔۴۱۔اور کہیں گے کہ یہ تجھ کو کہاں سے ؟ ۴۲ اور یہ تو ایک بناوٹ ہے۔۴۳ خدائے تعالیٰ جب مومن کی مدد کرتا ہے تو زمین پر کئی اس کے حاسد بنادیتا ہے۔۴۴سو جو لوگ حسد پر اصرار کریں اور باز نہ آویں تو جہنم اُن کا وعدہ گاہ ہے۔۴۵کہہ یہ سب کاروبار خدا کی طرف سے ہیں۔پھر اُن کو چھوڑدے تا اپنے بے جا خوض میں کھیلتے رہیں۔۴۶۔۔تَلَطَّفْ بِالنَّاسِ وَتَرَحَّـمْ عَلَیْھِمْ۔۴۷۔اَنْتَ فِیْھِمْ بِـمَنْزِلَۃِ مُوْسٰی۔۴۸۔۔وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ۔۴۶ لوگوں کے ساتھ رفق اور نرمی سے پیش آ اور اُن پر رحم کر۔۴۷ تو اُن میں بمنزلہ موسیٰ کے ہے۔۴۸اور اُن کی باتوں پر صبر کر۔حضرت موسیٰ بُردباری اور حلم میں بنی اسرائیل کے تمام نبیوں سے سبقت لے گئے تھے اور بنی اسرائیل میں نہ مسیح اور نہ کوئی دوسرا نبی ایسا نہیں ہوا جو حضرت موسیٰ کے مرتبہء عالیہ تک پہنچ سکے۔توریت سے ثابت ہے جو حضرت موسٰی رفق اور حلم اور اخلاقِ فاضلہ میں سب اسرائیلی نبیوں سے بہتر اور فائق تر تھے۔جیسا کہ گنتی باب دواز دہم آیت سوم توریت میں لکھا ہے کہ موسیٰ سارے لوگوں سے جو رُوئے زمین پر تھے زیادہ بُرد بار تھا۔سوخدا نے توریت میں موسٰی کی بُردباری کی ایسی تعریف کی جو بنی اسرائیل کے تمام نبیوں میں سے کسی کی تعریف میں یہ کلمات بیان نہیں فرمائے۔ہاں جو اخلاقِ فاضلہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن شریف میں ذکر ہے وہ حضرت موسیٰ سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ حضرتِ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام اُن اخلاقِ فاضلہ کا جامع ہے جو نبیوں میں متفرق طور پر پائے جاتے تھے اور نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم