تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 465 of 1089

تذکرہ — Page 465

۱۔وَ اللّٰہُ۱؎ مُـخْرِجٌ مَّا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ۔۲۔بَلَآءٌ وَّ اَ نْوَارٌ۔۳۔اِنِّیْ اَنَـا الرَّحْـمٰنُ ثُمَّ اِنِّیْ اَنَـا الرَّحْـمٰنُ۔۴۔خوش باش کہ عاقبت نکو خواہد بود۔خوش باش کہ عاقبت نکو خواہد بود۔۵۔بسترِ عیش۔‘‘ (کاپی الہامات۲؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۰ ) (ب) الہام ’’ وَ اللّٰہُ مُـخْرِجٌ مَّا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ‘‘ کے بارہ میں فرمایا۔’’آج ۲۵؍ جون ۱۹۰۴ء روز شنبہ کو یعنی اس رات کو جو جمعہ کا دن گزرنے کے بعد آتی ہے مطابق ۱۰؍ربیع الثانی ۱۳۲۲ھ اور دہم ہاڑ ۱۹۵۶ء میرے گھر میں لڑکی پیدا ہوئی اور اس کا نام امۃ الحفیظ رکھا گیا۔یہ وہی لڑکی ہے جس کی نسبت الہام ہوا تھا۔وَ اللّٰہُ مُـخْرِجٌ مَّا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۳۰) ۱۲ ؍دسمبر۱۹۰۳ء ’’ الہام۔اِنِّیْ حِــمَی الرَّحْــمٰنِ۔میں ہوں رحمٰن کی چراگاہ۳؎ وَ اللّٰہُ مُـخْرِجٌ مَّا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ۔‘‘۴؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۱) ۱ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔اور اللہ تعالیٰ نکالنے والا ہے جو کچھ کہ تم چھپاتے ہو۔۲۔آزمائش اور انوار۔۳۔مَیں رحمٰن خدا ہوں۔پھر(مَیں کہتا ہوں) مَیں رحمٰن خدا ہوں۔۴۔خوش ہو کہ انجام نیک ہوگا۔خوش ہو کہ انجام نیک ہوگا۔۲ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ یکم جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۶، الحکم مورخہ ۱۷، ۲۴؍دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ میںالہام نمبر ۳ ’’اِنِّیْ اَنَـا الرَّحْـمٰنُ ثُمَّ اِنِّیْ اَنَـا الرَّحْـمٰنُ۔‘‘ درج نہیں۔۳ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۲۴ ؍دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۸۳ میں یہ الہام یوں درج ہے۔’’ اِنِّیْ حِــمَی الرَّحْــمٰنِ (مَیں خدا کی باڑ ہوں)۔‘‘ فرمایا یہ خطاب میری طرف ہے۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعدا طرح طرح کے منصوبے کرتے ہوویں گے۔ایک شعر بھی اِس مضمون کا ہے اے آنکہ سُوئے من بدو یدی بصد تبر از باغباں بترس کہ من شاخِ مثمرم۵؎ ۴ (ترجمہ از مرتّب) اور اللہ تعالیٰ نکالنے والا ہے جو کچھ کہ تم چھپاتے ہو۔۵ (ترجمہ از ناشر) اے وہ جو میری طرف سینکڑوں کلہاڑے لے کر دوڑا ہے باغبان سے ڈر کیونکہ میں ایک پھل دار شاخ ہوں۔