تذکرہ — Page 464
۲۶؍ نومبر۱۹۰۳ء ’’ لَکَ الْفَتْحُ وَلَکَ الْغَلَبَۃُ۔‘‘؎۱ (الاستفتاء ضمیمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۰۲) نومبر۱۹۰۳ء ’’۱۔ہماری فتح۲؎، ہمارا غلبہ۔۲۔ظَفَرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتْحٌ مُّبِیْنٌ۔۳۔ظَفَرٌ وَّفَتْحٌ مِّنَ اللّٰہِ۔‘‘۳؎ (الحکم جلد ۷نمبر ۴۶، ۴۷ مورخہ ۱۷، ۲۴ دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵۔البدر جلد ۳ نمبر ۱ مورخہ یکم جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۶) ۲؍ دسمبر۱۹۰۳ء روز چار شنبہ ’’ خواب میں مَیں نے دیکھا کہ گھر میں مَیں ایک جگہ بیٹھا ہوں یک دفعہ وہ چوبارہ جس میں اخی مولوی عبدالکریم صاحب رہتے ہیں گِرا اور تمام گِر کے نیچے آپڑا اور اس کے گرنے کا بہت صدمہ ہوا، اور بڑی آواز آئی۔اسی وقت میرے خیال میں آیا کہ غلام قادر میرا بھائی چوبارہ میں تھا۔شاید وہ دَب کر مرگیا۔پھر دوبارہ دل میں ڈالا گیا کہ وہ اس چوبارہ میں نہیں تھا وہ بچ گیا ہے۔یہ خواب ہے جو آج بارھویں روزہ کی رات میں بدھ کے دن کی رات کو مَیں نے دیکھی۔مَیں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس کے بَداثر سے مجھے اور میرے تمام عیال اطفال اور میرے دوستوں کو بچاوے۔آمین ثم آمین۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۰) ۴؍ دسمبر۱۹۰۳ء (الف) ’’ شب چار دسمبر۱۹۰۳ء مطابق ۱۴؍ رمضان المبارک۔جب یہ توجہ کی گئی کہ حمل والدہ محمود نکالنا بہتر ہے یا نہیں تو اس وقت بوقت قریب اڑھائی بجے رات کے یہ الہام ہوا۔۱ (ترجمہ از مرتّب) تیرے لئے فتح ہے اور تیرے لئے غلبہ۔۲ ’’سعداللہ کی اِس پیشگوئی کے پُوراہونے کے متعلق ایک مجلس میں ذکر تھا… ایک… خادم نے عرض کیا کہ یہ امر شاید قبل از وقت ہو۔اس پر حضرت اقدس نے بزور کہا کہ یہ پیشگوئی پوری ہوچکی ہے اورہمیں اس میں کوئی تامل نہیں ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری اِس بات کو جھوٹا نہیں کرے گا اور اس میں فتح ہماری ہے۔اس پر حضرت کو الہام ہواجو الحکم میں ۳۰نومبر۱۹۰۶ء کو چھاپ دیا گیا۔لَوْ اَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَاَبَرَّہٗ۔اورابھی اِس الہام پر تھوڑاہی عرصہ گذرا تھا کہ ۴؍ جنوری کی شب کو لدھیانہ کے ایک تارنے خبردی کہ سعداللہ فوت ہوگیا۔‘‘ (الحکم مورخہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۵) ۳ (ترجمہ از ناشر) ۲۔خدا کی طرف سے ظفر اور کھلی کھلی فتح۔۳۔خدا کی طرف سے ظفر اور فتح۔