تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 1089

تذکرہ — Page 149

خوبوں کو بھی تو تم نے مسیحا بنا دیا ‘‘ (ٹائٹل رسالہ فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد۳، صفحہ ۱) ۱۸۹۰ء ’’حضرت عالی سیدنا و مولانا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بطور پیشگوئی فرماچکے ہیں کہ اِس اُمّت پر ایک زمانہ آنے والا ہے جس میں وہ یہودیوں سے سخت درجہ کی مشابہت پیدا کرلے گی… تب فارسؔ کی اصل میں سے ایک ایمان کی تعلیم دینے والا پیدا ہوگا۔اگر ایمان ثریّاؔ میں معلّق ہوتا، تو وہ اُسے اس جگہ سے بھی پالیتا۔یہ پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جس کی حقیقت الہام الٰہی نے اِس عاجز پر کھول دی اور تصریح سے اُس کی کیفیت ظاہر کردی اور مجھ پر خدا تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ سے کھول دیا کہ حضرت مسیح بن مریم بھی درحقیقت ایک ایمان کی تعلیم دینے والا تھا جو حضرت موسیٰ سے چودہ سَو۱۴۰۰ برس بعد پیدا ہوا اس زمانہ میں جبکہ یہودیوں کی ایمانی حالت نہایت کمزور ہوگئی تھی اور وہ بوجہ کمزوری ایمان کے ان تمام خرابیوں میں پھنس گئے تھے جو درحقیقت بے ایمانی کی شاخیں ہیں۔پس جبکہ اس اُمّت کو بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے عہد پر چودہ سو برس کے قریب مدّت گذری تو وہی آفات ان میں بھی بکثرت پیدا ہوگئیں جو یہودیوں میں پیدا ہوئی تھیں۔تا وہ پیشگوئی پوری ہو جو ان کے حق میں کی گئی تھی۔پس خدا تعالیٰ نے اِن کے لئے بھی ایک ایمان کی تعلیم دینے والا مثیلِ مسیح اپنی قدرتِ کاملہ سے بھیج دیا۔مسیح جو آنے والا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرو جس کسی کے کان سننے کے ہوں سُنے۔یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور لوگوں کی نظر میں عجیب۔‘‘ (فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۹،۱۰ حاشیہ) ۱۸۹۰ء ’’ خدا تعالیٰ نے مجھے بھی بشارت دی کہ موت کے بعد مَیں پھر تجھے حیات بخشوں گا اور فرمایا کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے مقر ّب ہیں وہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جایا کرتے ہیں۔اور فرمایا کہ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اور اپنی قدرت نمائی سے تجھے اُٹھاؤں گا پس میری اس دوبارہ زندگی سے مراد بھی میرے مقاصد کی زندگی ہے۔‘‘ (فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۱۶ حاشیہ)