تذکرہ — Page 148
مارچ ۱۸۸۹ء ’’ منجملہ ان نشانوں کے جو پیشگوئی کے طور پر ظہور میں آئے وہ پیشگوئی ہے جو میں نے اخویم قاضی ضیاء الدین صاحب قاضی کوٹی ضلع گوجرانوالہ کے متعلق کی تھی… اور وہ یہ ہے… کہ قاضی صاحب آپ کو ایک سخت ابتلاء پیش آنے والا؎۲ہے۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد۱۵صفحہ ۴۷۲) اپریل۳؎ ۱۸۸۹ء ’’ایک دفعہ مجھے علی گڑھ میں جانے کا اتفاق ہوا اور مرض ضعفِ دماغ کی و جہ سے جس کا قادیان میں بھی کچھ مدّت پہلے دورہ ہوچکا تھا میں اس لائق نہیں تھا کہ زیادہ گفتگو یا اور کوئی دماغی محنت کاکام کرسکتا… اس حالت میں علی گڑھ کے ایک مولوی صاحب محمد اسمٰعیل نام مجھ سے ملے اور انہوں نے نہایت انکساری سے وعظ کے لئے درخواست کی… میں نے اس درخواست کو بشوقِ دل قبول کیا اور چاہا کہ لوگوں کے عام مجمع میں اسلام کی حقیقت بیان کروں… لیکن بعد اس کے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے روکا گیا۔مجھے یقین ہے کہ چونکہ میری صحت کی حالت اچھی نہیں تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ زیادہ مغزخواری کرکے کسی جسمانی بَلا میں پڑوں۔اس لئے اُس نے وعظ کرنے سے مجھے روک دیا۔ایک دفعہ اس سے پہلے بھی ایسا ہی اتفاق ہوا تھا کہ میری ضُعف کی حالت میں ایک نبی گذشتہ نبیوں میں سے کشفی طور پر مجھ کو ملے اور مجھے بطور ہمدردی اور نصیحت کے کہا کہ اس قدر دماغی محنت کیوں کرتے ہو اس سے تو تم بیمار ہوجاؤ گے۔‘‘ (فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۱۷، ۱۸ حاشیہ) دسمبر ۱۸۹۰ء ’’ کیا شک ہے ماننے میں تمہیں اِس مسیح کے جس کی مماثلت کو خدا نے بتادیا حاذق طبیب پاتے ہیں تم سے یہی خطاب ۱ یعنی بیعت کرنے والوں کی۔(شمس) ۲ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) یہ پیشگوئی حضور ؑ نے اس وقت فرمائی جبکہ قاضی صاحب لدھیانہ میں حضورؑ کی بیعت سے مشرف ہوئے اور پھر جس طرح یہ ابتلاء پیش آیا اور پیشگوئی پوری ہوئی اس کی تفصیل قاضی صاحب موصوف نے اپنے خط میں درج کرکے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھیجی چنانچہ حضور ؑ نے اس خط کو بھی اسی کتاب تریاق القلوب میں درج فرما دیا۔تفصیل وہاں دیکھ لی جاوے۔۳ (نوٹ از ناشر) علی گڑھ کا سفر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپریل ۱۸۸۹ء میں اختیار کیا۔(حیات احمد جلد ۳ صفحہ ۵۳ مطبوعہ ۲۰۱۳ء)