تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 1089

تذکرہ — Page 150

۱۸۹۰ء ’’ اس حکیم و قدیر نے اِس عاجز کو اصلاحِ خلائق کے لئے بھیج کر … دنیا کو حق اور راستی کی طرف کھینچنے کے لئے کئی شاخوں؎۱ پر امر تائید حق اور اشاعت ِ اسلام کو مُنقسم کردیا… یہ پانچ طور کا سلسلہ جو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا… خدا تعالیٰ کی نظر میں یہ سب ضروری ہیں اور جس اصلاح کے لئے اُس نے ارادہ فرمایا ہے وہ اِصلاح بجز استعمال ان پانچوں طریقوں کے ظہور پذیر نہیں ہوسکتی۔‘‘ (فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۱۱،۱۲ و۲۵،۲۶) ۱۸۹۰ء ’’ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ ایک سخت بے دین ہندو سے اس عاجز کی گفتگو ہوئی اور اس نے حد سے زیادہ تحقیر دین متین کے الفاظ استعمال کئے۔غیرت دینی کی و جہ سے کسی قدر اس عاجز نے وَاغْلُظْ عَلَیْـھِمْ پر عمل کیامگر چونکہ وہ ایک شخص کو نشانہ بنا کر درشتی کی گئی تھی اس لئے الہام ہوا کہ تیرے بیان میں سختی بہت ہے رِفق چاہیے رِفق۔‘‘ (از مکتوب بنام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی۔مکتوبات احمد جلد۱ صفحہ ۳۱۶ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) جنوری ۱۸۹۱ء توضیح مرام ۲؎ (توضیح مرام ٹائٹل پیج روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۴۹ ) ۱۸۹۱ء ’’فضل الرحمٰن؎۱کی نسبت اس عاجز کو پہلے سے ظنِّ نیک ہے۔ایک دفعہ اس کی نسبت سَیُـھْدٰی؎۲ کا الہام ہوچکا ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۱۱۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۹۱ء ’’اللہ جلّ شانہٗ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ بھی میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ میرے بارہ میں پہلے سے قرآنِ شریف اور احادیثِ نبویہ میں خبر دی گئی ہے اور وعدہ دیا گیا ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ ۴۲۴۔مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۹۱ء ’’ کل میں نے اپنے بازو پر یہ لفظ اپنے تئیں لکھتے ہوئے دیکھا کہ ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ پانچ شاخیں ہیں جن کی تفصیل حضور اقدس نے آگے اسی کتاب میں فرمائی ہے۔ایک شاخ تالیف و تصنیف کا سلسلہ ہے دوسری اشتہارات۔تیسری مہمان خانہ اور مہمانوں کی خاطر مدارات۔چوتھی مکتوبات اور پانچویں شاخ سلسلہ بیعت ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھیے فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد۳صفحہ ۱۲تا ۲۵) ۲ اس رسالہ توضیح مرام کا نام الہامی ہے۔(عبد اللطیف بہاولپوری)