تذکرہ — Page 781
۲۱۔(رؤیا) فرمایا۔’’ مَیں ایک زینہ پر چڑھتا ہوں مگر اِس طرح سے کہ مجھے خطرہ ہوتا ہے کہ مَیں گر نہ پڑوں اور چھال مارکر یعنی قلانچ لگا کر دوسرے قدمچہ پر قدم رکھتا ہوں۔جب مَیں اُوپر چڑھا تو میری ناک سے خون آیا… فرمایا … تعبیر بہت اچھی ہے۔کہنے والا خون آیا کہے تو اچھا ہے اگر بہنا یا جانا کہے تو بُرا ہوتا ہے۔اس میں نقصان ہے۔اِس لئے آنا کہنا چاہیے۔اب معلوم ہوتا ہے کہ آمدن روپیہ کی ہوگی اور خدا تعالیٰ ہمارے ہاتھ کشادہ کردے گا۔‘‘ (تذکرۃ المہدی مصنّفہ پیر سراج الحق صاحب ؓ حصّہ دوم صفحہ ۱۵ مطبوعہ دسمبر ۱۹۲۱ء) ۲۲۔فرمایا۔’’ ہمیں بھی ایک بار حج کے روز کشف میں حج کا نظارہ دکھایا گیا یہاں تک کہ سب کی باتیں اور لبیک اور تسبیح و تہلیل ہم سنتے تھے۔اگر ہم چاہتے تو لوگوں کی باتیں لکھ لیتے۔‘‘ (تذکرۃ المہدی مصنفہ پیر سراج الحق صاحبؓ نعمانی حصّہ دوم صفحہ ۴۵ مطبوعہ دسمبر ۱۹۲۱ء۔الحکم جلد ۴۰ نمبر ۲ مورخہ ۲۱ ؍ جنوری ۱۹۳۷ء صفحہ ۳) ۲۳۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا۔’’آج ہمیں دکھایا گیا ہے کہ ان موجود اور حاضر لوگوں میں کچھ ہم سے پیٹھ دیئے بیٹھے ہیں اور ہم سے رُو گردان ہیں اور کراہت کے ساتھ ہم سے دوسری طرف (منہ ) پھیر رکھا ہوا ہے۔‘‘ (تذکرۃ المہدی مصنفہ پیر سراج الحق صاحبؓ نعمانی حصّہ دوم صفحہ ۴۵ مطبوعہ دسمبر ۱۹۲۱ء ) ۲۴۔’’ایک روز مَیں۱؎اور حضرت اقدس علیہ السلام مسجد مبارک میں بیٹھے تھے …آپ ؑ نے سرِ مبارک اُٹھایا اور فرمایا اَب ہمیں اِس وقت یہ الہام ہوا۔حَقّ‘‘ (تذکرۃ المہدی مصنفہ پیر سراج الحق صاحبؓ نعمانی حصّہ دوم صفحہ ۴۶ مطبوعہ دسمبر ۱۹۲۱ء) ۲۵۔’’ایک دفعہ مسجد مبارک میں حضرت اقدس سیّدنا مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف رکھتے تھے … سبع مثانی کی تحقیق کا ذکر ہوا۔کسی نے الحمد کا نام بتلایا اور کسی نے دوسری آیتوں کا، اور کسی نے کہا کہ الحمد مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اِس لئے دونوں مقام پر نازل ہونے کے باعث اِس کا نام سبع مثانی ہوا۔حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ممکن ہے کہ ایسا ہو لیکن ہمارے نزدیک اِس سورۃ کا ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونا اور دوسری بار مہدی و مسیح موعود پر نازل ہونا ہے جس کے سبب سے اِس ۱ یعنی صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ۔(شمس)