تذکرہ — Page 780
’’پیر پیراں‘‘ ہے۔وہ عین ہمارے منہ کے سامنے ہاتھ کرکے ہماری طرف اشارہ کرتے ہیں ’’ پیر پیراں‘‘۔(تذکرۃ المہدی مصنّفہ پیر سراج الحق صاحبؓ نعمانی حصّہ اوّل صفحہ ۷۰ مطبوعہ جون ۱۹۱۵ء) ۱۹۔’’صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب ؓ نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ایک گھنٹہ ہوا ہوگا ہم نے دیکھا کہ والدہ محمود قرآن شریف آگے رکھے ہوئے پڑھتی ہیں۔جب یہ آیت پڑھی۔’’وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيْقًا۔‘‘۱؎ جب اُولٰٓىِٕكَ پڑھا تو محمود سامنے آکھڑا ہوا۔پھر دوبارہ اُولٰٓىِٕكَ پڑھا تو بشیر آکھڑا ہوا۔پھر شریف آگیا۔پھر فرمایا جو پہلے ہے وہ پہلے ہے۔‘‘ (تذکرۃ المہدی مصنّفہ پیر سراج الحق صاحبؓ نعمانی حصّہ دوم صفحہ ۳ مطبوعہ دسمبر ۱۹۲۱ء ) ۲۰۔صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحبؓ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔’’خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ ہمارے سلسلہ میں بھی سخت تفرقہ پڑے گا اور فتنہ انداز اور ہوا و ہوس کے بندے جدا ہوجائیں گے۔پھر خدا تعالیٰ اس تفرقہ کو مٹادے گا۔باقی جو کٹنے کے لائق اور راستی سے تعلق نہیں رکھتے اور فتنہ پرداز ہیں وہ کٹ جائیں گے اور دُنیا میں ایک حشر برپا ہوگا۔وہ اوّل الحشر ہوگا اور تمام بادشاہ آپس میں ایک دوسرے پر چڑھائی کریں گے اور ایسا کُشت و خون ہوگا کہ زمین خون سے بھر جائے گی اور ہر ایک بادشاہ کی رعایا بھی آپس میں خوفناک لڑائی کرے گی۔ایک عالمگیر تباہی آوے گی اور اس تمام واقعات کا مرکز ملک ِ شام ہوگا۔صاحبزادہ۲؎ صاحب! اُس وقت میرا لڑکا موعود ہوگا۔خدا نے اُس کے ساتھ ان حالات کو مقدر کررکھا ہے۔ان واقعات کے بعد ہمارے سلسلہ کو ترقی ہوگی اور سلاطین ہمارے سلسلہ میں داخل ہوں گے۔تم اس موعود کو پہچان لینا۔‘‘ (تذکرۃ المہدی مصنفہ پیر سراج الحق صاحبؓ نعمانی حصّہ دوم صفحہ ۳ مطبوعہ دسمبر ۱۹۲۱ء) ۱ (ترجمہ از مرتّب) اور جو بھی اللہ کی اور اس رسول کی اطاعت کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی نبیوں میں سے، صدیقوں میں سے، شہیدوں میں سے اور صالحین میں سے اور یہ بہت ہی اچھے ساتھی ہیں۔(النّسآء : ۷۰) ۲ یعنی صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ۔(شمس)