تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 779 of 1089

تذکرہ — Page 779

جن کا جواب دیا گیا لیکن وہ ہمارے خلاف ہی رہے۔نماز کے لئے کہا کہ آؤ تم کو نماز پڑھائیں تو جواب دیا کہ ہم نے پڑھی ہوئی ہے اور خواب میں یہ واقعہ ایک ایسی جگہ پیش آیا تھا جہاں ہماری دعوت تھی۔اُس وقت ہم کو ایک کھلے کمرہ میں بٹھایا گیا لیکن اس میں کھانا نہ کھلایا گیا۔پھر بعد میں ایک تنگ کمرہ میں بٹھلایا گیا اور اُس میں بڑی دِقّت سے کھانا کھایا گیا۔آپ نے یہ رؤیابیان کرکے فرمایا کہ شاید وہ تمہارا لُدھیانہ ہی نہ ہو۔‘‘ پھر یہ رؤیالُدھیانہ میں ہی منشی رحیم بخش صاحب کے مکان پر پورا ہوا۔‘‘ (سیرت المہدی مؤلفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے، جلد ۱ روایت نمبر ۹۲۵ صفحہ ۷۹۶ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۷۔ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب ؓ نے بیان کیا کہ۔’’حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ؓ ایک دفعہ کسی شخص کا ذکر سنانے لگے کہ وہ عورت پر سخت عاشق ہو گیا اور باوجود ہزار کوشش کے وہ اس عشق کو دل سے نہ نکال سکا۔آخر حضرت صاحب ؑ کے پاس آیا اور طالبِ دعا ہوا۔حضرت صاحب ؑ نے مولوی صاحب ؓ سے فرمایا کہ ’’مجھے خدا کی طرف سے معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص اُس عورت سے ضرور بدکاری کرے گا مگر مَیں بھی پورے زور سے اس کے لئے دعا کروں گا۔‘‘ چنانچہ وہ شخص قادیان ٹھہرا رہا اور حضور ؑ دعا کرتے رہے یہاں تک کہ اُس نے ایک روز مولوی صاحب ؓ سے کہا کہ آج رات خواب میں مَیں نے اُس عورت کو دیکھا اور خواب میں ہی اُس سے مباشرت کی اور مَیں نے اِس دَوران میں اس کی شرمگاہ کو جہنّم کے گڑھے کی طرح دیکھا جس سے مجھے اس سے اِس قدر خوف اور نفرت پیدا ہوئی کہ یکدم وہ آتشِ عشق ٹھنڈی ہوگئی اور وہ محبّت کی بے قراری سب دل سے نکل گئی بلکہ دل میں دُوری پیدا ہوگئی اور خدا کے فضل اور حضور ؑ کی دعا کی برکت سے مَیں بدکاری سے بھی محفوظ رہا اور وہ جنون بھی جاتا رہا۔‘‘ (سیرت المہدی مؤلفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے، جلد ۱ روایت نمبر۹۵۶ صفحہ ۸۱۶ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۔صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب ؓ نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ ہم ایک روز صحن مکان میں لیٹ رہے تھے جو ہمیں کشف ِ ملکوت ہوا اور کشف میں بہت سے فرشتے دیکھے کہ بہت خوبصورت لباسِ فاخرہ اور مکلّف پہنے ہوئے وَجد کرتے اور گاتے ہیں اور ہماری طرف بار بار چکر لگاتے ہیں اور ہر چکر میں ہماری طرف ہاتھ لمبا کرکے ایک غزل کا شعر پڑھتے ہیں اور اس مصرعہ کا آخر لفظ