تذکرہ — Page 751
(ب) ’’ واِنْ ھٰذَانِ لَسَاحِرَانِ یُرِیْدَانِ اَنْ یُـخْرِجَاکُمْ۔‘‘۱؎ (جیبی بیاض حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ صفحہ ۱۴۹) ’’کشف میں دیکھا۔تفسیر حسینی ۵۰اور۵۱صفحہ پر وَ لِنَجْعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَانْظُرْاِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنْشِـزُھَا ثُمَّ نَکْسُوْھَا لَـحْمًا۔فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِ یْرٌ۔فَسَّـرَہٗ نُـوْرُ الدِّ یْنِ بِالْمَعَارِفِ الْغَرِیْبَۃِ۔‘‘۲؎ (جیبی بیاض حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفحہ ۱۴۹) ۵؍ اپریل۱۸۹۳ء ۱۔قاضی سلیمان پٹیالوی کی نسبت الہام۔’’پشت بر قبلہ مے کنند نماز‘‘۳؎ ۲۔بعد ظہر کے فرمایا یا بعد دعا بہ نسبت خاکسار راقم۴؎ الہام۔’’ اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ‘‘ ۵؎ (جیبی بیاض حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفحہ ۱۵۷) ۷؍۶؎اپر یل ۱۸۹۳ء پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۱ (ترجمہ ازمرتّب) یہ دونوں بڑے ہوشیار اورچالاک ہیں تمہیں نکالنا چاہتے ہیں۔(نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) اِس الہام کے متعلق جیبی بیاض میں کوئی تاریخ درج نہیں اورنہ کوئی تشریح ہے۔لیکن یہ الہام اسی صفحہ پر درج ہے جہاں الہام لَا تَصْبُوَنَّ لکھا ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) اور تاکہ ہم تجھے لوگوں کے لئے نشان بنائیں اوراُن ہڈیوں کی طرف دیکھ۔ہم انہیں کیسے اُبھارتے، پھر انہیں گوشت پہناتے ہیں۔پھر جب اس پر واضح ہوگیا تو کہا مَیں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔نورالدین نے اس کی عجیب و غریب معارف کے ساتھ تفسیر کی۔۳ (ترجمہ از مرتّب) قبلہ کو پیٹھ دے کر نماز ادا کرتے ہیں۔۴ یعنی حضرت مولانا نورالدین صاحب خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ۔(عبد اللطیف بہاولپوری) ۵ (ترجمہ از مرتّب) یقینا صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔۶ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) اِس الہام اور اگلے چار الہاموں کی جیبی بیاض میں صرف تاریخیں لکھی ہوئی ہیں مگر سنہ درج نہیں غالباً ۱۸۹۳ء ہی ہوگا۔