تذکرہ — Page 752
’’یہ باغِ اسلام ہم تم کو دیتے ہیں۔‘‘ (کشف) پھر الہام ہوا۔’’شُد تُرا ایں برگ و بار و شیخ و شاب‘‘۱؎ اور تفہیم ہوئی۔ایک جماعت اِس سلسلہ میں داخل ہوگی۔‘‘ (جیبی بیاض حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفحہ ۱۵۸) ۱۵؍ مئی۱۸۹۳ء ’’ اَلَمْ تَـرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْـحَابِ الْفِیْلِ۲؎ الہام ہے۔پھر ملخ دیکھے۔مشرق سے مغرب کو جاتے ہیں اور اس کی بڑی گونج ہے۔‘‘ (جیبی بیاض حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفحہ ۱۶۵) ۲۵؍ جون۱۸۹۳ء (خواب میں) ’’سانپ نے ذراع پر کاٹا۔ڈاکٹر کی جستجو کی تو مرزا غلام مرتضیٰ تھے۔انہوں نے سینہ کاٹنا شروع کیا تاکہ زہر نکل جاوے۔اس کے بعد الہام ہوا۔نَـرُدُّھَا عَلَی النَّصَارٰی۔‘‘۳؎ (جیبی بیاض حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفحہ ۱۶۴) ۱۱؍ جولائی ۱۸۹۳ء ’’یہ کشف کہ سفید کاغذ پر (عبداللہ ) (سلطان محمد) لکھا ہے۔پھر الہام ہوا۔بُشْـرٰی لَکَ فِی النِّکَاحِ۴؎ اور تفہیم ہوئی کہ یہ آتھم اور لڑکا معہود ہے۔‘‘ (جیبی بیاض حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفحہ ۱۴۴) ۳؍ ستمبر ۱۸۹۳ء رات کو الہام ہوا۔’’کَـرَامَۃٌ جَلِیْلَۃٌ قَدْ جَآءَ وَقْتُـھَا‘‘۵؎ ( از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب ورق نمبر ۱۲۔جیبی بیاض حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفحہ ۱۴۹) ۱ (ترجمہ ا ز مرتّب) یہ پھل پھول اور بوڑھے اور جوان سب آپ کے ہی ہوئے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) کیا تو نہیں جانتا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں سے کیا سلوک کیا۔۳ (ترجمہ از مرتّب) ہم اسے نصاریٰ پرلوٹا دیں گے۔(نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) ایک الہام صفحہ ۲۵۶ پر اِن الفاظ میں ہے۔’’ اِنَّ النَّصَارٰی حَوَّلُوا الْاَمْرَ۔سَنَـرُدُّ ھَا عَلَی النَّصَارٰی۔‘‘ ممکن ہے یہ الہام وہی ہو یا دوسرا ہو۔۴ (ترجمہ از مرتّب) اِس نکاح کے بارہ میں آپ کو خوشخبری ہو۔۵ (ترجمہ از مرتّب) ایک بڑی کرامت ہے جس کا وقت آچکا ہے۔