تذکرہ — Page 750
’’اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔‘‘۱؎ (از مکتوب مرزا خدا بخش صاحبؓ مندرجہ ’’ اصحابِ احمد‘‘ مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب حصّہ دوم صفحہ ۱۱۶ حاشیہ مطبوعہ ۱۹۵۲ء) مارچ ۱۸۹۳ء ’’نور الدین۲؎کو دو گلاس دُودھ کے پلائے۔ایک ہم نے خود دیا اور دوسرا اُس نے مانگ کر لیا اورکہا سرد ہے۔پھر دُودھ کی ندی بن گئی اورہم اُس میں نبات کی ڈلی ہلاتے جاتے ہیں۔‘‘ (جیبی بیاض حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ۲ ؍۳؎اپریل ۱۸۹۳ء (الف) ’’مولوی عبدالکریم صاحبؓ سے ایک دن ذکر کیا کہ مجھے الہام ہواہے۔لَا تَصْبُوَنَّ اِلَی الْوَطَنْ فِیْہِ تُـھَانُ وَ تُـمْتَحَنْ۴؎ یہ الہام نورالدین کے متعلق معلوم ہوتا ہے۔‘‘ (ضمیمہ اخبار بدر جلد ۸ نمبر۴۰ مورخہ ۲۹جولائی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۷۷۔مرقاۃ الیقین فی حیاۃ نور الدین صفحہ ۱۶۹ طبع اوّل) ۱ (ترجمہ از مرتّب) یقیناً اللہ تعالیٰ علیم حکیم ہے۔۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔۳ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) یہ تاریخ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ عنہ کی جیبی بیاض میں درج ہے مگر وہاں سن درج نہیں۔تعیین سال چونکہ بدلائل ۱۸۹۳ء ثابت ہے(دیکھیے تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ ۴۹۴ مولانا نورالدینؓ کی ہجرت کا ایمان افروز واقعہ) اِس لئے ہم نے یہی سن درج کردیا۔۴ (ترجمہ از مرتّب) تُو وطن کی طرف ہرگز توجہ نہ کر۔اس میں تیری اہانت ہوگی اور تکلیفیں اُٹھانی پڑیں گی۔(نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) یہ الہام حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ کی بیاض جیبی صفحہ ۱۴۹ میں یوں درج ہے۔لَاتَصْبُوَنَّ اِلَی الْوَطَنْ فِیْہِ تُضَامُ وَ تُـمْتَـھَنْ اور اس کے ساتھ ہی حریریؔ کا دوسرا شعربھی درج ہے۔فَاعْلَمْ بِـاَنَّ الْـحُرَّ فِیْ اَوْطَانِہٖ یَلْقَی الْغَبَنْ (ترجمہ) اپنے وطن کی طرف راغب مت ہو اس میں تجھ پر ظلم کیا جائے گا اورذلیل کیا جائے گا۔اوریاد رکھ کہ آزاد انسان اپنے وطن میں خسارہ پاتا ہے۔