تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 733 of 1089

تذکرہ — Page 733

۲۵؍مارچ۱۹۰۸ء ’’ اَمْثَالُ الرَّحْـمَۃِ۔اَوَّلُ الذِّکْرِ وَ اٰخِرُ الذِّکْرِ۔حٰـمٓ۔تِلْکَ اٰیَـاتُ الْکِتَابِ الْمُبِیْنِ۱؎۔لَا تَذْ رُوْہُ جَارِیَۃٌ۔۲؎ کبھی معدے کے خلل سے بھی وَرم ہوجاتی ہے۔‘‘ ( بدر جلد۷نمبر ۱۳مورخہ ۲؍ اپریل۱۹۰۸ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۲مورخہ ۲۶؍ مارچ۱۹۰۸ء صفحہ ۸) ۲۸؍مارچ۱۹۰۸ء ’’ الہام۔۱۔اَحْسَنَ اللّٰہُ اَمْرِیْ۔۲۔اَحْسَنَ اللّٰہُ اَمْرَکَ۔۳۔یَـاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ۳؎۔۴۔اُمید سے بڑھ کر۔۵۔رعایا میں سے ایک شخص کی موت۔۶۔اَحْسَنَ اللّٰہُ اَمْرَکَ۔۷۔اَحْسَنَ اللّٰہُ اَمْرِیْ۔۸۔یَاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ۔۹۔امید سے بڑھ کر…… اور پھر الہام ہوا۔۱۰۔امید سے بڑھ کر فائدہ ہوا۔‘‘ (کاپی الہامات۴؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۷) ۳۰؍مارچ۱۹۰۸ء ’’ حَدَّ ثْتُکَ فِی الْـحَضْـرَۃِ۵؎۔فتح۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۸) ۳۱؍ مارچ۱۹۰۸ء ’’ اِ۔نِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔مِنْ ھٰذِ۔ہِ الْمَرَضِ الَّذِیْ ھُوَ سَارِیْ۔یعنی مِنْ ھٰذِ۔ہِ الْاٰفَۃِ۔وَ الْمَرْضُ بَدَ۔لٌ مِّنْہُ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۸) (ترجمہ) میں تمام گھر والوں کو اس بیماری سے بچاؤں گا۔ایسی بیماری جو متعدی ہے یعنی اس آفت سے۔اور مرض اس کا بدل ہے۔(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام موصولہ صفحات از فیملی ڈاکٹر شاہ نواز صاحب پسر حضرت چوہدری مولا بخشؓ) مارچ ۱۹۰۸ء ’’ رحمت اور فضل کا مقام۔شکر کاکلام۶؎۔اَمْثَالُ الرَّحْـمَۃِ فِیْ اَوَّلِ الذِّکْرِ ۱ (ترجمہ) رحمت کی مثالیں۔پہلے ذکر والا اور آخر ذکر والا۔حٰمٓ کھول کر بیان کرنے والی کتاب کے یہ نشانات ہیں۔(بدر مورخہ ۲؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۲) ۲ (ترجمہ از مرتّب) کوئی واقعہ اس کا شیرازہ نہیں بکھیر سکے گا۔۳ (ترجمہ) اللہ تعالیٰ نے میرا کام اچھا کردیا۔اللہ تعالیٰ نے تیرا کام اچھا کردیا۔میرے پاس تحائف آئیں گے ہر دُور کی راہ سے۔(بدر مورخہ ۲؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۲) ۴ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲؍ اپریل۱۹۰۸ء صفحہ۲ اور الحکم مورخہ ۳۰؍ مارچ۱۹۰۸ء صفحہ ۱ میں الہام نمبر ۱ تا ۵ ترتیب کے اختلاف سے درج ہیں اور ان کی تاریخ نزول ۲۹؍مارچ ۱۹۰۸ء ہے۔۵ (ترجمہ از ناشر) میں خدا کے بارہ میں تجھے بتا چکا ہوں۔۶ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۱۴؍ اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۳ میں یہ الہام یوں درج ہے۔’’رحمت اور فضل کا کلام۔شکر کا کلام۔‘‘