تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 734 of 1089

تذکرہ — Page 734

وَ اٰخِرِ الذِّکْرِ۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۹) اپریل۱۹۰۸ء ’’ میاں منظور محمد کے گھر کی نسبت۲؎ جو سِل کی بیماری سے بیمار ہیں اور ہمارے ہی گھر میں رہتے ہیں۔حٰـمٓ۔تِلْکَ اٰیَـاتُ الْکِتَابِ الْمُبِیْنِ۔لفظ حٰمٓ میں بیمار کا نام بطور اختصار ہے اور باقی الفاظ کے یہ معنی ہیں کہ اِس میں نشان ہیں جو خدا کی کتاب میں مقرر ہیں۔بیمار بہت ہی چیخیں مارتا ہے۳؎۔ماتم کدہ۔اِ نِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔مِنْ ھٰذِ ہِ الْمَرَضِ الَّذِیْ ھُوَ سَارِیْ۔۴؎ یعنی مِنْ ھٰذِہِ الْاٰفَۃِ۔اور مرض اس کا بدل ہے۔ترجمہ۔میں تمام گھر والوں کو اس بیماری سے بچاؤں گا ایسی بیماری جو متعدی ہے۔اور پھر الہام ہوا کہ ’’امید سے بڑھ کر فائدہ ہوا۔پھرالہام ہوا۔دوبارہ زندگی۔منسوخ شدہ زندگی۔۱ (ترجمہ از ناشر) رحمت کی مثالیں ذکر کے شروع میں اور ذکر کے آخر میں۔۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) ان کا نام محمدی بیگم تھا جو بالآخر ۹؍ اکتوبر ۱۹۰۸ء کو فوت ہوگئیں اور الہام ’بیمار بہت ہی چیخیں مارتا ہے‘ ظاہری رنگ میں پورا چنانچہ ایڈیٹر صاحب بدر لکھتے ہیں۔’’یہ بھی ہم نے سنا کہ بعینہٖ یہی حالت تھی۔آخر وہی ہوا جو میرے سَیّد و مولیٰ مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجنے والا مولیٰ فرماچکا ہے وہ یہ کہ ’’ ماتم کدہ۔‘‘ یعنی یہ بیمار فوت ہوجائے گا۔پھر چونکہ سِل کا مرض ایک متعدی مرض ہے اِس لئے بشارت کے لئے فرمایا کہ اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔مِنْ ھٰذِہِ الْمَرَضِ الَّذِیْ ھُوَ سَارِیْ۔پھر کچھ دوائیں بتائیں گئیں تاکہ باقی ماندہ دن زیادہ تکلیف سے نہ گزریں اور حسب ِ الہام ’’اُمید سے بڑھ کر فائدہ ہوا۔‘‘ بلکہ ’’دوبارہ زندگی ‘‘ عطا ہوئی۔گو زندگی منسوخ شدہ تھی۔‘‘ ( بدر مورخہ ۱۵؍ اکتوبر۱۹۰۸ء صفحہ۱ ،۲) ۳ (نوٹ از ناشر) کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۶ میں ۳؍ مارچ ۱۹۰۸ء کے تحت یہ الہام یوں درج ہے۔’’بیمار بہت ہی چیخیں مارتی ہے۔‘‘ ۴ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۸ اور الحکم مورخہ ۱۴؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۳ میں اس الہام کے ضمن میں تحریر ہے۔’’فرمایا کہ اگرچہ اس میں بظاہر عبارت میں غلطی معلوم ہوتی ہے مگر خدا تعالیٰ اس صرف نحو کا ماتحت نہیں اور ایسی مثالیں قرآن شریف میں بھی موجود ہیں۔پھر حضرت کو بیمارکے واسطے بعض دوائیں دکھائی گئیں۔‘‘