تذکرہ — Page 732
فروری۱۹۰۸ء ’’کل ایک دوائی مَیں استعمال کرنے لگا تو الہام ہوا۔خطرناک‘‘ ( بدر جلد۷نمبر ۶مورخہ ۱۳؍ فروری۱۹۰۸ء صفحہ۴) ۱۲؍ فروری ۱۹۰۸ء ’’ ظَفَّرَکُمُ اللّٰہُ ظَفَرًا مُّبِیْنًا۔‘‘ ۱؎ (کاپی الہامات۲؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۶) ۲۱؍ فروری۱۹۰۸ء ’’ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ۔اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۔وَ اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ وَ اِنَّهَا لَكَبِيْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْـخَاشِعِيْنَ۔‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۶) ۳؍مارچ۱۹۰۸ء ’’ بیمار بہت ہی چیخیں مارتی ہے۔اِنِّیْ مَعَکَ یَـا اِبْـرَاھِیْمُ۔سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِیْمٍ۔‘‘۴؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۶) ۷؍مارچ۱۹۰۸ء ’’ماتم کدہ۔۵؎ ایک جنازہ آتا دیکھا۔قُلْ جَآءَکُمُ الْفَتْحُ۔‘‘۶؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۶) ۱۹۰۸ء ’’ امام حسین کو مَیں نے دو مرتبہ دیکھا ہے۔ایک مرتبہ مَیں نے دیکھا کہ دُور سے ایک شخص چلا آرہا ہے اور میری زبان سے یہ لفظ نکلا۔ابو عبداللہ حُسین۔پھر دوبارہ دیکھا۔‘‘ ( بدر جلد۷نمبر ۱۰ مورخہ ۱۲؍ مارچ۱۹۰۸ء صفحہ۴) ۱ (ترجمہ از مرتّب) اللہ نے تم کو کھلی فتح دی۔۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۰؍فروری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱ میں اس الہام کی تاریخ نزول ۲۰؍فروری ۱۹۰۸ء درج ہے۔۳ (ترجمہ ازناشر) ہم اس سے ( اس کی) رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔یقیناً اللہ کسی خیانت کرنے والے ناشکرے کو پسند نہیں کرتا۔اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگو اور یقیناً یہ عاجزی کرنے والوں کے سوا سب پر بوجھل ہے۔۴ (ترجمہ از ناشر) اے ابراہیم!میں تیرے ساتھ ہوں۔ربّ رحیم فرماتا ہے کہ تم پر سلامتی ہو۔۵ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۲؍ مارچ۱۹۰۸ءصفحہ ۲ اور الحکم مورخہ ۱۰؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۶ میں اس ضمن میں تحریر ہےکہ ’’ ماتم کدہ۔فرمایا۔اس کے متعلق کوئی تفہیم نہیں ہے۔پھر غنودگی میں دیکھا کہ ایک جنازہ آتا ہے۔‘‘ ۶ (ترجمہ ازناشر) کہہ تمہارے پاس فتح آگئی ہے۔