تذکرہ — Page 670
لاش کفن میں لپیٹ کر لائے ہیں۔۱؎ ۴۔پچیس۲۵ دن تک یا یہ کہ پچیس۲۵ دن۔۵۔مِنَ النَّاسِ وَالْعَآمَّۃِ۔‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۱۱) (ب) ’’پچیس دن یا یہ کہ پچیس دن تک۳؎…… ۱ بدر مورخہ ۱۴؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۷؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں اس الہام کے بارہ میں تحریر ہے۔’’ معلوم نہیں کہ یہ کن لوگوں کی طرف یا کس کی طرف اشارہ ہے۔‘‘ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) واقعات نے بتا دیا کہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کی طرف اشارہ تھا چنانچہ لاہور میں حضورؑ کی وفات ہوئی باوجود یہ کہ وہاں ہی صندوق تیار کیا گیا تھا اور بٹالہ تک آپ کو صندوق میں رکھا گیا مگر پھر کسی مصلحت کے ماتحت جنازہ صندوق سے نکال کر صرف کفن میں لپیٹے ہوئے قادیان میں چارپائی پر اٹھا کر لایا گیا۔۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۴؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۷؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں اس الہام کے بارہ میں درج ہے۔’’ اَیْ مِنْ خَوَاصِّ النَّاسِ وَالْعَآمَّۃِ یعنی طاعون خاص لوگوں میں بھی پڑے گی اور عام لوگوں میں بھی۔‘‘ ۳ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۴؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۷؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں اس الہام کے بارہ میں تحریر ہے کہ ’’پچیس دن (یا یہ کہ پچیس دن تک۔) اور پچیس دن کے الہام میں یہ اشارہ ہے کہ ۷؍ مارچ سے پچیس دن پورے ہونے کے سر پر یا ۷؍ مارچ ۱۹۰۷ء سے پچیس دن تک کوئی نیا واقعہ ظاہر ہوگا اور ضرور ہے کہ تقدیرِ الٰہی اِس واقعہ کو روک رکھے جب تک کہ ۷؍ مارچ ۱۹۰۷ء سے پچیس دن گزر نہ جاویں یا یہ کہ ۷؍ مارچ ۱۹۰۷ء سے پچیس دن تک یہ واقعہ ظہور میں آجائے گا۔اگر صرف پچیس دن کے لحاظ سے معنے کئے جاویں تو اس طور سے ضرور ہے کہ اِس واقعہ کے ظہور کی یکم اپریل سے اُمید رکھی جائے کیونکہ الہامِ الٰہی کے رُو سے ساتویں مارچ پچیس دن کے شمار میں داخل ہے۔اِس صورت میں پچیس دن مارچ کے اکتیس ۳۱ تاریخ تک پورے ہوجاتے ہیں۔تو اِس طور پر پیشگوئی کے ظہو رکا مہینہ اپریل ٹھہرتا ہے مگر یہ سوال کہ وہ واقعہ کیا ہے جس کی پیشگوئی کی گئی ہے؟ اس کا ہم اِس وقت کچھ بھی جواب نہیں دے سکتے بجز اِس کے کہ یہ کہیں کہ کوئی ہولناک یا تعجب انگیز واقعہ ہے کہ ظہور کے بعد پیشگوئی کے رنگ میں ثابت ہوجائے گا اور ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ واقعہ ہماری ذات کے متعلق ہے یا ہمارے دوستوں کے متعلق یا دشمنوں کے متعلق۔جس امر کو خدا نے پوشیدہ کیا ہے ہم ظاہر نہیں کرسکتے۔‘‘