تذکرہ — Page 671
جس رنگ میں یہ پیشگوئی ظہور میں آئی وہ یہ ہے کہ ٹھیک ٹھیک ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۷ء کو جس پر ۷؍ مارچ سے ۲۵ دن ختم ہوتے ہیں ایک بڑا شعلہ آگ کا جس سے دل کانپ اُٹھے آسمان پر ظاہر ہوا اور ایک ہولناک چمک کے ساتھ قریباً سات سو میل کے فاصلہ تک (جو اَب تک معلوم ہوچکا ہے یا اس سے بھی زیادہ) جابجا زمین پر گرتا دیکھا گیا اور ایسے ہولناک طور پر گرا کہ ہزار ہا مخلوقِ خدا اُس کے نظارہ سے حیران ہوگئی اور بعض بیہوش ہوکر زمین پر گر پڑے اور جب اُن کے منہ میں پانی ڈالا گیا تب اُن کو ہوش آئی۔اکثر لوگوں کا یہی بیان ہے کہ وہ آگ کا ایک آتشی گولہ تھا جو نہایت مہیب اور غیر معمولی صورت میں نمودار ہوا اور ایسا دکھائی دیتا تھا کہ وہ زمین پر گرا اور پھر دھواں ہوکر آسمان پر چڑھ گیا۔‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۱۷، ۵۱۸) (ج) ’’ نَعَیْتُ۱؎… اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّادِقِیْنَ۔‘‘۲؎ (الاستفتاء ضمیمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۷۰۲) مارچ۱۹۰۷ء ۱۔’’ قہری تجلّی ہوگی۔‘‘ ۲۔’’وقت کو پالے۔قہرِ الٰہی کی تجلّی ہے۔دشمن ہلاک ہوگیا۔آج مبارک دن ہے۔‘‘ ۳۔’’ ذلیل انسا ن کا بیڑا۳؎ غرق ہوگیا۔تیری دُعا قبول کی گئی۔جو لوگ تیری طرف توجہ نہیں کرتے وہ خدا کی طرف بھی توجہ نہیں کرتے۔‘‘ ۴۔’’خدا تجھے ایک غیر معمولی عزت دے گا اور ہر ایک نعمت کے دروازے تیرے پر کھولے جاویں گے۔خدا کا یہ ارادہ نہیں کہ تجھے مشکلات میں ڈالے بلکہ وہ ہر ایک بات میں تیرے لئے سہولت پیدا کرے گا۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر۱۴ مورخہ۴ ؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۱ یہ پیشگوئی ڈوئی کے متعلق تھی جو پوری ہوگئی۔(تشحیذالاذہان مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۴۰ /۴) ۲ (ترجمہ) مَیں تجھے ایک کاذب کی موت کی خبر دیتا ہوں۔خدا سچوں کے ساتھ ہے۔(بدر مورخہ۴ ؍ اپریل۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۳ (نوٹ از ناشر) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس الہام کی وضاحت میں فرمایا ہے کہ یہ ڈوئی کی ہلاکت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔(الاستفتاء روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۰۲)