تذکرہ — Page 563
وَ فِی الْاَرْضِ۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۶) ۱۶؍فروری ۱۹۰۶ء ’’ تَکْفِیْکَ ھٰذِہِ الْاِمْرَأَ ۃُ۔‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۶) ۱۸؍فروری ۱۹۰۶ء ’’اِنِّیْ مَعَ الَّذِ یْنَ ھُمْ یَـھْتَدُ۔وْنَ۔اَیْ یَـاْتُـوْنَ اِلَی اللّٰہِ حَنِیْفًا کَمَا قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔قُلْ بَلْ مِلَّۃَ اِبْـرَاھِیْمَ حَنِیْفًا۔‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۶) ۱۹؍فروری ۱۹۰۶ء ’’دیکھا کہ منظور محمد صاحب کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے اور دریافت کرتے ہیں کہ اس لڑکے کا کیا نام رکھا جائے۔تب خواب سے حالت الہام کی طرف چلی گئی اور یہ معلوم ہوا۔’’ بشیرُ الدَّولہ ‘‘ فرمایا۔کئی آدمیوں کے واسطے دعا کی جاتی ہے معلوم نہیں کہ منظور محمد کے لفظ سے کِس کی طرف اشارہ ہے۔ممکن ہے کہ بشیر الدَّولہ کے لفظ سے یہ مراد ہو کہ ایسا لڑکا میاں منظور محمد کے پیدا ہوگا جس کا پیدا ہونا موجب ِ خوشحالی اور دولتمندی ہوجائے اور یہ بھی قرین ِ قیاس ہے کہ وہ لڑکا خود اقبا ل مند اور صاحب ِ دولت ہو لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ کب اور کِس وقت یہ لڑکا پیدا ہوگا۔خدا نے کوئی وقت ظاہر نہیں فرمایا۔ممکن ہے کہ جلد ہو یا خدا اِس میں کئی برس کی تاخیر ڈال دے۔‘‘ ( بدر جلد۲ نمبر۸مورخہ۲۳؍ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔الحکم جلد۱۰ نمبر۷مورخہ۲۴؍ فروری۱۹۰۶ء صفحہ۱) ۲۰؍فروری ۱۹۰۶ء روز دو شنبہ ’’ ۱۔عورت۴؎ کی چال۔۱ (ترجمہ از مرتّب) اے میرے ربّ میری بیوی کو شفا بخش اور اسے آسمانی برکتیں اور زمینی برکتیں عطا فرما۔۲ (ترجمہ از مرتّب) یہ عورت تجھے کافی ہے۔۳ (ترجمہ از مرتّب) مَیں ان لوگوں کے ساتھ ہوں جو ہدایت پاتے ہیں۔یعنی خدا کی طرف یکسر ہوکر آتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تُو کہہ دے (نہیں) بلکہ ابراہیمِ حنیف کی امّت ہو جاؤ (یہی ہدایت کا موجب ہے) ۴ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ۲۴؍ فروری۱۹۰۶ء صفحہ۱ اوربدر مورخہ ۲۳؍ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ۲ میں اس الہام کی تاریخ ۱۹؍فروری ۱۹۰۶ء درج ہے۔علاوہ ازیں تحریر ہے کہ ’’یہ خیال گزرتا ہے۔واللہ اَعلم کہ کو ئی شخص زنانہ طور پر مَکر کرے۔یعنی مردِ میدان بن کر کارروائی نہ کرے بلکہ چھپ کر عورتوں کی طرح کوئی نقصان پہنچانا چاہے جس کا نتیجہ آخر بریّت ہو۔مگر یہ صرف اجتہادی رائے ہے۔اللہ تعالیٰ