تذکرہ — Page 564
ایلی ایلی لما سبقتنی۔۳۔بریّت۔۴۔اِذْ کَفَفْتُ عَنْ بَنِیْ اِسْـرَآءِیْلَ۔۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۷) بقیہ حاشیہ۔بہتر جانتا ہے اس کے کیا معنے ہیں۔ایک مَردوں کی چال ہوتی ہے اور ایک زنانہ چال ہوتی ہے جو گمنام ہوکر کوئی بدی کرتا ہے یا عورت کی طرح چھپ کر کوئی حملہ کرتا ہے اور آخری فقرے کے یہ معنے ہیں کہ فرعون کے شر سے ہم نے بنی اسرائیل کو بچالیا۔‘‘ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) اِس الہام کی پیشگوئی کا ایک ظہور جو واقعات کے رنگ میں آنکھوں کے سامنے آیا وہ بھی ہے جو حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک مکتوب سے معلوم ہوتا ہے۔چراغدین جمونی کی وفات پر حضرت مفتی صاحبؓ نے قاضی صاحبؓ کو بعض امور تحقیق طلب کے متعلق تفصیلات دریافت کرنے کے لئے لکھا۔انہوں نے بعد تحقیق مفصل خط بھیج دیا جس میں چراغدین کی بیوی کے متعلق بھی الفاظ ِ ذیل لکھ دیئے۔’’اس کی عورت پر لوگ یاری آشنائی کے الزام لگاتے تھے۔ممکن ہے کہ وہ اس کی زندگی میں ہی خراب ہو۔‘‘ یہ خط بدر ۱۹؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ میں شائع ہوگیا۔اِس خط کے شائع ہونے پر معاندین نے قاضی صاحب ؓ کے خلاف بھی ہتک عزت کا مقدمہ کھڑا کرنا چاہا اور پَیروی مقدمہ کے لئے ایک بڑی کمیٹی مقرر ہوئی۔اس پر قاضی صاحبؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں تفصیل دیتے ہوئے دعا کے لئے لکھا اور اس میں یہ بھی لکھا کہ ۱۹ ؍ فروری کا الہام ’’عورت کی چال۔ایلی ایلی لما سبقتانی‘‘ شاید یہی چال نہ ہو۔حضور اقدس ؑ نے اس خط پر اپنے دست ِ مبارک سے رقم فرمایا۔’’اِس خط کو بہت محفوظ رکھا جائے اور اس کا جواب لکھ دیا جاوے کہ اب صبر سے خدا تعالیٰ پر توکل کریں۔دعا کی جائے گی۔‘‘ (پھر) اس مقدمہ کے متعلق یوں ہوا کہ عین اس تاریخ کو جس دن دعویٰ ہونا تھا اور سب تیاری ہر طرح سے مکمل ہوچکی تھی اس دن علی الصبح پتہ لگا کہ وہ عورت اپنے آشنا کے ساتھ غائب ہوگئی اور اس طرح ان مخالفوں کی ساری کارستانی پر پانی پھر گیا اور میرے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبولیت ِ دعا اور حضور ؑ کی توجہ کی برکت کا ایک روشن نشان ظاہر ہوا۔( تفصیلی حالات کے لئے دیکھیے اصحابِ احمد جلد ۶ صفحہ ۱۴۱ تا ۱۴۶۔طبع اوّل مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم اے) ۱ (ترجمہ از مرتّب) ۲۔اے خدا ! اے خدا ! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔۳۔بریّت۔۴۔اور یاد کرو جب مَیں نے بنی اسرائیل سے (دشمن کو ) باز رکھا۔