تذکرہ — Page 542
نومبر۱۹۰۵ء ’’مجھے خدا نے بتلایا ہے کہ میرا انہی سے پَیوند ہے۔یعنی وہی خدا کے دفتر میں مُرید ہیں جو اعانت اور نصرت میں مشغول ہیں۔‘‘ ( الحکم جلد ۹ نمبر۴۰ مورخہ۱۷؍ نومبر۱۹۰۵ء صفحہ۵) ۱۵؍ نومبر۱۹۰۵ء وحی ہوئی۔’’ زندگیوں کا خاتمہ۔‘‘ ( بدر جلد ۱ نمبر۳۶ مورخہ۱۷؍ نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۴۰ مورخہ۱۷؍ نومبر۱۹۰۵ء صفحہ ۱) ۱۹؍ نومبر۱۹۰۵ء ۱۔’’کمبل میں لپیٹ کر صبح قبر میں رکھ دو۔‘‘ ۲۔’’ ایک رؤیامیں دیکھا کہ سانپ نے میری ایڑی پر کاٹا ہے مگر اس سے کوئی زخم اور درد نہیں ہوا خفیف سا خون نکلا ہے۔والد صاحب مرحوم نے اسے دیکھا ہے تو علاج بھی بتایا ہے اور جو کچھ فرمایا ہےاس کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی فکر کی بات نہیں۔‘‘ (الحکم جلد ۹ نمبر۴۱ مورخہ۲۴؍ نومبر۱۹۰۵ء صفحہ ۱) ۲۰؍ نومبر۱۹۰۵ء (الف) ’’ ۱۔اِنِّیْ مَعَکَ یَـا ابْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔‘‘۱؎ ’’ ۲۔اَجْـمِعُوْا مَنْ فِی الْاَرْضِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ لِیَجْتَمِعُوْا عَلٰی دِ یْنٍ وَّاحِدٍ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۳) (ب) ’’ اِنِّیْ مَعَکَ یَـا ابْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔سب مسلمانوں۲؎ کو جو رُوئے زمین پر ہیں جمع کرو عَلٰی دِیْنٍ وَّاحِدٍ۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر۳۷ مورخہ۲۴؍ نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۴۱ مورخہ۲۴؍ نومبر۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۱ (ترجمہ) مَیں تیرے ساتھ ہوں اے رسول اللہ کے بیٹے۔(بدر مورخہ ۲۴؍نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔’’ یہ امر جو ہے کہ سب مسلمانوں کو جو رُوئے زمین پر ہیں جمع کرو عَلٰی دِیْنٍ وَّاحِدٍ۔یہ ایک خاص قسم کا امر ہے۔احکام اور امر دو۲ قِسم کے ہوتے ہیں۔ایک شرعی رنگ میں ہوتے ہیں جیسے نماز پڑھو، زکوٰۃ دو، خون نہ کرو وغیرہ۔اِس قسم کے اوامر میں ایک پیشگوئی بھی ہوتی ہے کہ گویا بعض ایسے بھی ہوں گے جو اس کی خلاف ورزی کریں گے جیسے یہود کو کہا گیا کہ توریت کو محرف مبدّل نہ کرنا، یہ بتاتا تھا کہ بعض ان میں سے کریں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔غرض یہ امر شرعی ہے اور یہ اصطلاح شریعت ہے۔دوسرا امر کَونی ہوتا ہے اور یہ احکام اور امر قضا و قدر کے رنگ میں ہوتے ہیں جیسے قُلْنَا یَـا نَـارُ کُوْنِیْ بَـرْدًا (وَّ) سَلَامًا اور وہ پورے طور پر وقوع میں آگیا اور یہ امر جو میرے اِس الہام میں ہے یہ بھی اسی قسم کا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مسلمانانِ رُوئے زمین عَلٰی دِ۔یْنٍ وَّاحِدٍ جمع ہوں اور وہ ہوکر رہیں گے۔ہاں اِس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان میں کوئی کسی قِسم کا بھی اختلاف نہ رہے۔اختلاف بھی رہے گا مگر وہ ایسا ہوگا جو قابل ذکر اور قابلِ لحاظ نہیں۔‘‘ ( الحکم مورخہ۳۰؍ نومبر۱۹۰۵ء صفحہ۲)