تذکرہ — Page 543
نومبر۱۹۰۵ء فرمایا۔’’ چند روز ہوئے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کورؤیامیں دیکھا۔پہلے کچھ باتیں ہوئیں پھر خیال آیا کہ یہ تو فوت شدہ ہیں۔آؤ اِن سے دعا کرائیں۔تب مَیں نے اُن کو کہا کہ آپ میرے واسطے دُعا کریں کہ میری اتنی عمر ہو کہ سلسلہ کی تکمیل کے واسطے کافی وقت مِل جائے۔اِس کے جواب میں اُنہوں نے کہا ’’تحصیلدار‘‘۔مَیں نے کہایہ آپ غیر متعلق بات کرتے ہیں۔جس امر کے واسطے مَیں نے آپ کو دُعا کے واسطے کہا ہے آپ وہ دُعا کریں۔تب اُنہوں نے دعا کے واسطے سینے تک ہاتھ اُٹھائے مگر اُونچے نہ کئے اور کہا ’’اکیس۲۱‘‘۔مَیں نے کہا کھول کر بیان کرو مگر انہوں نے کچھ کھول کر نہ بیان کیا اور بار بار اکیس اکیس۱؎ کہتے رہے اور پھر چلے گئے۔فرمایا۔تحصیلدار کے لفظ سے یہ مُراد معلوم ہوتی ہے کہ تحصیلدار کے دو کام ہوتے ہیں ایک رعایا سے سرکاری لگان وصول کرنا دوسرے رعایا کے باہمی حقوق کا تصفیہ کرنا اور ان میں باہم عدل قائم کرنا۔اسی طرح مسیح موعود کا یہ کام ہے کہ خدا کے حق کا مطالبہ کرے اور توحید کو زمین پر پھیلاوے۔دوسرے یہ کہ حَکَم عَدل ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) مولوی صاحب کا اکیس۔اکیس۔اکیس کہنا ظاہر کرتا ہے کہ اکیس کا لفظ آپ کی تبلیغ کی عمر کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔کیونکہ آپ ؑ کا سوال مولوی صاحب سے یہ تھا کہ مجھ کو اتنی عمر ملے کہ سلسلہ کی تبلیغ کے لئے کافی ہو اور ا سکے جواب میں مولوی صاحب نے اکیس کا لفظ فرمایا ہے۔یعنی تمہاری اِس تبلیغ کا وقت اکیس تک ہوگا چنانچہ واقعات کو دیکھنے سے اس خواب کی سچائی بڑے زور سے ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ حضرت اقدس ؑ کا اشتہاربیعت جمادی الاوّل ۱۳۰۶ھ میں ہوا ہے اور اکیسویں سال اسی مہینے میں آپ کا انتقال ہوا اور اسی طرح ۱۸۸۸ء میں اشتہار بیعت نکلا اور ۱۹۰۸ء میں وفات ہوئی جس سے اس خواب کی تعبیر واضح ہوگئی کہ اس خواب سے یہ مُراد تھی کہ اکیسویں سال آپ ؑ کی وفات ہوگی۔‘‘ (رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ جون و؍ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۸ ،۹ ) (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) حضرت امیر المؤ منین خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ بھی چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مثیل و بروز تھے اِس لئے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی قِسم کا انکشاف ہوا اور اس انکشاف سے اکیس سال بعد آپ کی وفات ہوئی۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ۲۳ ؍ اپریل ۱۹۴۴ء کو فرمایا ’’آج مَیں نے ویسا ہی ایک رؤیا دیکھا جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک رؤیا ہے…یہ ساری رؤیا تو نہیں مگر آج رات ایک لمبے عرصہ تک یہی رؤیا ذہن میں آکر بار بار یہ الفاظ جاری ہوتے رہے اکیس اکیس۔‘‘ (الفضل مورخہ ۲۹؍ اپریل ۱۹۴۴ء صفحہ ۲) چنانچہ ۱۹۴۴ءسے ٹھیک اکیس سال بعد حضورؓ کا وصالِ مبارک ہوا اور لفظاً لفظاً خدا تعالیٰ کی بات پوری ہوئی۔