تذکرہ — Page 439
۳۰ ؍ اپریل۱۹۰۳ء ’’ فِیْہِ خَیْرٌ وَّ بَـرَکَۃٌ۔۱؎ اَرْبَعَۃَ عَشَـرَ دَ وَآ۔بًّـا۔۲؎ یا شاید یہ ہے اِنَّـا اَمَتْنَا اَرْبَعَۃَ عَشَـرَ دَ وَآ۔بًّـا۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۷) (ترجمہ) ہم نے چودہ چارپایوں کو ہلاک کردیا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۸) ۳۰ ؍ اپریل۱۹۰۳ء ’’فرمایا کہ مجھے الہام ہوا مگر اس کا آخری حصّہ یاد ہے دوسرے الفاظ یاد نہیں رہے۔جو الفاظ یاد ہیں وہ یہ ہیں۔فِیْہِ خَیْرٌ وَّ بَــرَکَۃٌ اس کا ترجمہ بھی بتلایا گیا۔اِس میں تمام دُنیا کی بھلائی ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۶ مورخہ ۸ ؍ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۲۲) یکم مئی۱۹۰۳ء ’’ فرمایاکہ مَیں نے ایک منذر رؤیادیکھی ہے مگر شکر ہے کہ وہ درمیان میں رہ گئی۔دیکھتا ہوں کہ کوئی شخص ہے جو میدان میں بیٹھا ہے اور کہتا ہے کہ یہاں ایک بَیل ذبح کریں گے۔وہ باتوں ہی میں رہا اور کوئی بَیل وغیرہ ذبح نہ ہوا۔اسی حالت میں الہام ہوا جس کے الفاظ تو یاد نہیں رہے۔‘‘ (البدر۳؎ جلد۲ نمبر۱۶ مورخہ۸؍ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۲۲) ۱۹۰۳ء (الف) ’’مَیں نے ایک دفعہ کشف؎۴ میں اللہ تعالیٰ کو تمثل کے طور پر دیکھا میرے گلے میں ہاتھ ڈال کر فرمایا۔جے تُوں میرا ہو رہیں سب جَگ تیرا ہو۔‘‘ (بدر۵؎ جلد۶ نمبر۱۷ مورخہ۲۵؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۸) (ب) ’’دنیوی تمام لذّات میں خواص کا ہی حصہ زیادہ ہے پنجابی شعر اس پر کیا عمدہ صادق آتا ہے۔جے تُوں میرا ہو رہیں سب جَگ تیرا ہو ۱ (ترجمہ) اس میں تمام دنیا کی بھلائی ہے۔(البدر مورخہ ۸؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲۲) ۲ (ترجمہ از ناشر) چودہ چارپائے۔۳ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۱۰ ؍ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۳ میں بھی یہ رؤیا باختلاف الفاظ درج ہے۔۴ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) اس کشف کو یہاں اس لئے ذکر کیا کہ اگلے کشف سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی اسی زمانہ کا ہے اور حافظ محمد ابراہیم صاحب مہاجر کی روایت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کشف براہین احمدیہ کے زمانہ سے بھی بہت پہلے کا ہے جبکہ حضور ؑ کی عمر تقریباً بتیس تینتیس سال کی تھی۔دیکھیے سیر ت احمد صفحہ ۱۹۱ مصنّفہ مولوی قدرت اللہ صاحب سنوریؓ۔۵ (نوٹ از ناشر) یہ الہام الٰہی الحکم مورخہ ۱۰؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴ میں بھی مذکور ہے۔