تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 438 of 1089

تذکرہ — Page 438

تَعَھَّدَ وَ تَـمَکَّنَ فِی السَّمَآءِ مگر وہ اصل فقرہ بھول گیا اور اِس نسیان میں بھی کچھ منشاء ِ الٰہی ہوتا ہے۔گویا اِس کا یہ مطلب ہے کہ یہ اب تقدیر مُبرم ہے اس میں اب تبدیلی نہیں ہوگی۔‘‘ (الحکم جلد۷ نمبر۱۵ مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۱۲) ۲۵؍ اپریل۱۹۰۳ء الہام طاعون کی نسبت۔’’ یَـا اَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَکِ وَ یَـا سَـمَآءُ اَقْلِــعِیْ۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۷) ۲۶؍ اپریل۱۹۰۳ء ’’رَبِّ اِنِّیْ مَظْلُوْمٌ فَانْتَصِـرْ۔فَسَحِّقْھُمْ تَسْحِیْقًا۔‘‘ ؎۲ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۷) ۲۹ ؍ اپریل۱۹۰۳ء (الف) ’’اٰمِنًا مِّنَ اللّٰہِ الرَّحِیْمِ۳؎ - احمد مقبول۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۷) (ب) ؕ ’’اِنَّـا نَرِثُ الْاَرْضَ نَـاْکُلُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۱۷ حاشیہ) (ترجمہ) ہم زمین کے وارث ہوں گے اور اطراف سے اس کو کھاتے آئیں گے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۷) ۱ (ترجمہ از مرتّب) اے زمین اپنا پانی نِگل لے اور اے بادل تُو برسنے سے رُک جا۔(نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ اور البدر مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷ میں اس الہام کےبارہ میں تحریر ہے کہ ’’ طاعون کے متعلق ایک یہ الہام ہے۔قُلْنَا یَـا اَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَ کِ وَ یَـا سَمَآءُ اَقْلِعِیْ اس الہام کے متعلق جہاں تک میری رائے ہے، وہ یہ ہے کہ یہ عام شہروں اور دیہات کے متعلق نہیں اور نہ اس سے دوام منع ثابت ہوتا ہے۔غالباً یہی ہے کہ بعض دیہات اور شہروں میں جن کی نسبت خدا کا ارادہ ہے چند مہینوں تک طاعون بند رہے اور پھر جہاں خداوند قدیر چاہے پھر پھوٹ پڑے اور یہ بکلّی بند نہیں ہوگی جب تک وہ ارادہ بکمال و تمام پورا نہ ہوجائے جو آسمان پر قرار پایا ہے اور ضرور ہے کہ زمین اپنے مواد نکالتی رہے جب تک کہ خدا کا ارادہ اپنے کمال کو نہ پہنچے۔میرزا غلام احمد‘‘ ۲ (ترجمہ از مرتّب) اے میرے ربّ مَیں ستم رسیدہ ہوں میری مدد فرما اور انہیں اچھی طرح پیس ڈال۔۳ (ترجمہ از مرتّب) خدائے رحیم کی طرف سے امن پانے والا۔