تذکرہ — Page 440
مجھے خواب میں ۲دو دفعہ پنجابی مصرعہ بتلائے گئے ہیں۔ایک تو یہی جو بیان ہوا اور ایک دفعہ مَیں نے دیکھا کہ ایک وسیع میدان ہے۔اس میں ایک مجذوب (جس میں محبّت ِ الٰہی کا جذبہ ہو) میری طرف آرہا ہے۔جب میرے (پاس) پہنچا تو اُس نے یہ پڑھا۔عشقِ الٰہی وَسّے مُنہ پر ولیاں ایہہ نشانی‘‘ (البدر جلد۲ نمبر۱۶ مورخہ۸؍ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۲۳) ۲ ؍ مئی۱۹۰۳ء ’’فرمایا کہ کچھ دن ہوئے کہ مَیں بیماروں کے لئے دعا کرتا تھا۔ایک شخص کے لئے خاص طور سے دعا کی۔دیکھا کہ وہ اُٹھ کر کھڑا ہوگیا اور پھر الہام ہوا کہ آثارِ صحت مگر تصریح بالکل نہیں کہ یہ الہام کس کی نسبت ہے۔‘‘ (البدر۱؎ جلد۲ نمبر۱۶ مورخہ۸؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۲۳) ۴ ؍مئی ۱۹۰۳ء ’’ اوّل دیکھا کہ میں ایک قبرستان میں ہوں شاید اس جگہ تین قبریں ہیں میں ایک قبر پر ٹھہر گیا۔شاید وہ والد کی قبر تھی۔تھوڑی دیر کے بعد صاحبِ قبر اندر سے نکل آیا اور مجھ سے مصافحہ کیا اور میں نے نام پوچھا تو کہا میرا نام نظام الدین ہے۔پھر ہم وہاں سے رخصت ہونے لگے تو میں نے اُس زندہ شخص کو کہا کہ میرے والدین کو سلام کہنا اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سلام کہنا۔تب وہاں سے روانہ ہوئے۔راہ میں مَیں نے ایک شخص کو کہا کہ اتنا بڑا معجزہ ظاہر ہوا کیااب بھی قبول نہیں کرو گے۔اس نے کہا کہ اب کیوں قبول نہ کریں، اب تو حد ہوگئی۔پھر بعد اس کے الہام ہوا۔سَلِیْمٌ حَامِـدٌ مُسْتَبْشِـرٌ۔۲؎ پھر الہام ہوا۔نُقِلُوْا اِلَی الْمَقَابِـرِ۔‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۹) ۱۳؍ مئی۱۹۰۳ء ’’۱۳؍ مئی کو والدہ محمود سخت بیمار تھی تپ سے۔تب الہام ہوا۔’’خوشی و خُرمی‘‘ تب قبل اِس کے کہ شام ہو ان کو صحت حاصل ہوگئی اور خوشحال ہوگئی۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۸) ۱ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ۱۰؍ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۳ میں بھی یہ الہام مع تفصیل درج ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) صحیح سلامت۔اللہ تعالیٰ کا شکر کرنے والا۔خوشخبری دینے والا۔۳ (ترجمہ از مرتّب) وہ قبروں کی طرف منتقل کئے گئے۔