تذکرہ — Page 419
اس نے اندر بیٹھے کیسے دیکھ لیا۔مَیں نے اس پر خدا کا شکر کیا کہ یہ باوجود مَیلے کے سر پر موجود ہونے کے نہیں دیکھ سکتی حالانکہ مجھے اس نے اس قدر دُور دراز فاصلہ سے دکھلا دیا۔‘‘ (البدر جلد ۱نمبر۱۱ مورخہ۹؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۸۴) ۱۹۰۲ء یکم جنوری ۱۹۰۳ء کو فرمایا۔’’ ایک دفعہ مجھے ایک فرشتہ آٹھ یا دس سالہ لڑکے کی شکل پر نظر آیا۔اُس نے بڑے فصیح اور بلیغ الفاظ میں کہا کہ خدا تمہاری ساری مُرادیں پُوری کرے گا۔‘‘ (البدر جلد ۱نمبر۱۲ مورخہ۱۶؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۰) یکم جنوری ۱۹۰۳ء بروز پنج شنبہ (الف) ’’اوّل ایک خفیف خواب میں جو کشف کے رنگ میں تھا مجھے دکھایا گیا کہ مَیں نے ایک لباس فاخرہ پہنا ہوا ہے اور چہرہ چمک رہا ہے۔پھر وہ کشفی حالت وحی الٰہی کی طرف منتقل ہوگئی چنانچہ وہ تمام فقرات وحی الٰہی کے جو بعض اس کشف سے پہلے اور بعض بعد میں تھے ذیل میں لکھے جاتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔یُبْدِیْ لَکَ الرَّحْـمَانُ شَیْئًا۔؎۱ اَتٰی اَمْرُاللّٰہِ فَلَا تَسْتَعْــجِلُوْہُ۔بِشَارَۃٌ تَلَقَّاھَا النَّبِیُّوْنَ۔ترجمہ۔خدا جو رحمان ہے تیری سچائی ظاہر کرنے کے لئے کچھ ظہور میں لائے گا۔خدا کا امر آرہا ہے۔تم جلدی نہ کرو۔یہ ایک خوش خبری ہے جو نبیوں کو دی جاتی ہے۔صبح ۵ بجے کا وقت تھا۔یکم جنوری ۱۹۰۳ء و یکم شوال ۱۳۲۰ھ روزِ عید ، جب میرے خدا نے مجھے یہ خوش خبری دی۔‘‘ (اشتہار یکم جنوری ۱۹۰۳ء۔مجموعہ اشتہارات جلد۳ صفحہ ۲۹۱، ۲۹۲ مطبوعہ ۲۰۱۸ء مندرجہ الحکم۲؎ جلد ۷نمبر۱ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱) ۱ حضرت اقدسؑ نے فرمایا۔’’شیء سے مراد کوئی عظیم الشان بات ہے۔اس کی عظمت کے لئے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کو پوشیدہ رکھا ہے کیونکہ چھپانے میں ایک عظمت ہوتی ہے جیسے جنّت کے انعامات کے لئے فرمایا ہے۔فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ۔۳؎ کھانے پر جیسے دسترخوان ہوتا ہے۔اُس کے چھپانے میں بھی ایک عظمت ہی مقصود ہوتی ہے۔غرض یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے۔‘‘ ( الحکم مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۲) ۲ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۸۵ میں بھی یہ الہامات مع خواب درج ہیں۔۳ (ترجمہ از ناشر) کوئی جان نہیں جانتی کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا کیا مخفی رکھا گیا ہے۔(السّجدۃ: ۱۸)