تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 418 of 1089

تذکرہ — Page 418

ہے۔ایک بڑا بحرِ ذخّار چل رہا ہے۔مَیں نے دیکھا تو واقعی میں کوئی دریا نہیں بلکہ ایک بڑا سمندر ہے اور پیچیدہ ہوہو کر چل رہا ہے جیسے سانپ چلا کرتا ہے۔ہم واپس چلے آئے کہ ابھی راستہ نہیں اور یہ راہ بڑا خوفناک ہے۔‘‘ (البدر جلد ۱نمبر۱۰ مورخہ۲؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۶) ۲۵؍ دسمبر۱۹۰۲ء ’’۲۵؍دسمبر ۱۹۰۲ء کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک وحی ہوئی تھی جو میری طرف سے بطور حکایت تھی اور وہ یہ ہے۔اِنِّیْ صَادِقٌ وَ سَیَشْھَدُ اللّٰہُ لِیْ۔‘‘؎۱ (ترجمہ) میں صادق ہوں اور صادق ہوں۔عنقریب خدا تعالیٰ میری گواہی دے گا۔‘‘ (اشتہار مورخہ یکم جنوری ۱۹۰۳ء۔مجموعہ اشتہارات جلد۳ صفحہ۲۹۲ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۱۹۰۲ء (الف) ’’ اِنِّیْ اَنَـا الـصَّـاعِــــقَــــــۃُ۔‘‘؎۲ (البدر جلد ۱نمبر۱۱ مورخہ۹؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۸۶۔الحکم جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲) (ب) ’’ مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نیا اِسم ہے آج تک کبھی نہیں سنا۔حضرت اقدسؑ نے فرمایا۔بے شک۔اِسی طرح طاعون کی نسبت جو الہامات ہیں وہ بھی ہیں۔جیسے اُفْطِرُ وَاَصُوْمُ۔یہ بھی کیسے لطیف الفاظ ہیں۔گویا خدا فرماتا ہے کہ طاعون کے متعلق میرے دو کام ہوں گے۔کچھ حصّہ چُپ رہوں گا یعنی روزہ رکھوں گا اور کچھ افطار کروں گا اور یہی واقعہ ہم چند سال سے دیکھتے ہیں۔شدّت گرمی اور شدّت سردی کے موسم میں طاعون دب جاتی ہے گویا وہ اَصُوْمُ کا وقت ہے اور فروری ، مارچ ، اکتوبر وغیرہ میں زور کرتی ہے، وہ گویا اِفْطَار کا وقت ہوتا ہے اور اسی لطیف کلام میں سے ہے۔اِنِّیْ اَنَـا الصَّاعِقَۃُ۔‘‘ (البدر جلد ۱نمبر۱۱ مورخہ۹؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۸۶) (ج) ۳۱؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز چہار شنبہ، حضرت اقدس ؑ نے فرمایا۔’’ایک دفعہ ایک خاکروبہ نے ایک جگہ سے مَیلا اُٹھایا اور اس کا ایک حصّہ چھوڑ دیا۔مَیں جو مکان کے اندر بیٹھا ہوا تھا مجھے نظر آیا کہ اس نے ایک حصّہ چھوڑ دیا ہے تو مَیں نے اُس خاکروبہ سے کہا وہ سن کر حیران ہوئی کہ ۱ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۲؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۷ اور الحکم مورخہ ۲۴؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۴ میں یہ الہام ۲۴؍دسمبر ۱۹۰۲ء کے حوالہ سے ان الفاظ میں درج ہے۔’’اِنِّیْ صَادِقٌ صَادِقٌ وَ سَیَشْھَدُ اللّٰہُ لِیْ۔‘‘ ۲ (ترجمہ از مرتّب) مَیں ہی صاعقہ ہوں۔