تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 374 of 1089

تذکرہ — Page 374

۸؍ دسمبر ۱۹۰۰ء ۸؍دسمبر ۱۹۰۰ء کی صبح کو فرمایا کہ کل رات میری انگلی کے پوٹے میں درد تھا اور اِس شدّت کے ساتھ درد تھا کہ مجھے خیال آیا تھا کہ رات کیوں کر بسر ہوگی۔آخر ذرا سی غنودگی ہوئی اور الہام ہوا۔کُـوْنِیْ بَـرْدًا وَّ سَلَامًا؎۱ اور سَلَامًا کا لفظ ابھی ختم نہ ہونے پایا تھا کہ معاً درد جاتا رہا ایسا کہ کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔‘‘؎۲ (الحکم جلد ۴ نمبر ۴۴ مورخہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۰ء صفحہ۶) ۱۱؍ دسمبر۱۹۰۰ء ’’ مَیں ہرگز یقین نہیں رکھتا کہ مَیں اس وقت سے پہلے مروں جب تک کہ میرا قادر خدا ان جھوٹے الزاموں سے مجھے بَری کرکے آپ۳؎ کا کاذب ہونا ثابت نہ کرے اَلَا اِنَّ لَعْنَۃَ اللہِ عَلَی الْکَاذِ۔بِیْنَ اسی کے متعلق قطعی اور یقینی طور پر مجھ کو ۱۱؍د؎۴سمبر۱۹۰۰ء روز پنجشنبہ کو یہ الہام ہوا۔برمقامِ فلک شدہ یاربّ گر اُمیدے دِہم مدار عجب؎۵ ۱ (ترجمہ از ناشر) تو ٹھنڈک اور سلامتی بن جا۔۲ ’’ اس پر آپ نے فرمایا کہ ہم کو تو خدا تعالیٰ کے اس کلام پر جو ہم پر وحی کے ذریعہ نازل ہوتا ہے اس قدر یقین اور علیٰ وجہ البصیرت یقین ہے کہ بیت اللہ میں کھڑا کرکے جس قسم کی چاہو قسم دے دو بلکہ میرا تو یقین یہاں تک ہے کہ اگر مَیں اس بات کا انکار کروں یا وہم بھی کروں کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں تو معاً کافر ہوجاؤں۔‘‘ (الحکم مورخہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۰ء صفحہ۶) ۳ منشی الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ (ناشر) ۴ (نوٹ از ناشر) ۱۱؍ دسمبر ۱۹۰۰ء روز پنج شنبہ سہو کاتب ہے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۴۵ مورخہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۰۰ء صفحہ ۲ میں اس وحی کی تاریخ ۱۳؍دسمبر وقت شب لکھی ہے جو درست تاریخ ہےاور تقویم کے حساب سے بھی روز پنج شنبہ کو ۱۳؍دسمبر ۱۹۰۰ء ہی قرار پاتی ہے۔۵ ’’ بر مقامِ فلک شدہ یاربّ گر اُمیدے دِہَم مدار عجب (خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تیری دُہائی اب آسمان پر پہنچ گئی ہے۔اب مَیں اگر تجھے کوئی امیداور بشارت دُوں تو تعجب مت کر۔میری سنّت اور موہبت کے خلاف نہیں) بعد ۱۱۔انشاء اللہ (فرمایا اس کی تفہیم نہیں ہوئی کہ ۱۱سے کیا مُراد ہے گیارہ دن یا گیارہ ہفتے یا کیا۔یہی ہندسہ ۱۱ کا دکھایا گیا ہے)۔‘‘ (الحکم مورخہ ۱۷؍دسمبر۱۹۰۰ء صفحہ )