تذکرہ — Page 375
بعد؎۱ ۱۱۔انشاء اللہ تعالیٰ۔مَیں نہیں جانتا کہ گیار۱۱اں دن ہیں یا گیار۱۱اں ہفتہ یا گیار۱۱اں مہینے یا گیار۱۱اں سال۔مگر بہرحال ایک نشان میری بریّت کے لئے اس مدّت میں ظاہر ہوگا۔‘‘ (اربعین نمبر۴۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۵۷ حاشیہ) ۱۳؍ دسمبر ۱۹۰۰ء (الف) ’’ پھر وحی ہوئی۔لاہور میں ہمارے پاک ممبر موجود ہیں ان کو اطلاع دی جاوے۔نظیف مٹی کے ہیں۔وسوسہ ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اس کا انکشاف ہوا کہ یہ الہام الٰہی بخش کے بارے میں ہے چنانچہ حضورتتمہ حقیقۃ الوحی کے حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں۔’’بابو الٰہی بخش صاحب گیارہ چارپایوں کے ہلاک ہونے کے بعد طاعون کے ساتھ ہلاک کئے گئے۔جیسا کہ اس الہامی شعر میں ہے؎ برمقامِ فلک شدہ یاربّ گر اُمیدے دِہم مدار عجب بعد گیار۱۱اں۔اس سے معلوم ہوا کہ بابو صاحب کا بارھوا۱۲ں نمبر تھا اور ان کے بعد دو اَور ہیں تا چودہ۱۴ پورے ہوجاویں۔‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۸۹ حاشیہ) چونکہ الہامی پیشگوئیاں ذوالوجوہ والمعارف ہوا کرتی ہیں جن کے مصداق متعدد بار وقوع پذیر ہوکر مومنوں کے ایمان کو تازہ کرتے اور نیا عرفان پیدا کرتے ہیں۔اِس بناء پر اس پیشگوئی کا ایک اور بھی مصداق حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ الودود کے وجود میں ظاہر ہوا چنانچہ حضرت ممدوح نے اس الہام کو ہجرت قادیان پر چسپاں کرتے ہوئے فرمایا۔’’جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات کے مطالعہ سے مَیں نے سمجھا کہ ہماری ہجرت یقینی ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ مجھے قادیان چھوڑ دینا چاہیےتو اس وقت لاہور فون کیا گیا کہ کسی نہ کسی طرح ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جائے لیکن آٹھ دس دن تک کوئی جواب نہ آیا اور جواب آیا بھی تو یہ کہ حکومت کسی قسم کی ٹرانسپورٹ مہیا کرنے سے انکار کرتی ہے اس لئے کوئی گاڑی نہیں مل سکتی مَیں اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات کا مطالعہ کررہا تھا۔الہامات کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے ایک الہام نظر آیا۔’’بعد گیارہ ‘‘ مَیں نے خیال کیا کہ گیارہ سے مراد گیارہ تاریخ ہے اور مَیں نے سمجھا کہ شاید ٹرانسپورٹ کا انتظام قمری گیارہ تاریخ کے بعد ہوگا مگر انتظار کرتے کرتے عیسوی ماہ کی ۲۸تاریخ آگئی لیکن گاڑی کا کوئی انتظام نہ ہوسکا… مَیں سوچ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہام ’’بعد گیارہ‘‘ سے کیا مراد ہے۔تو مجھے میاں بشیر احمد صاحب کا پیغام ملا کہ میجر جنرل نذیر احمد صاحب کے بھائی میجر بشیر احمد صاحب ملنے کے لئے آئے ہیں۔دراصل یہ اُن کی غلطی تھی وہ میجر بشیر احمد صاحب نہیں تھے بلکہ ان کے دوسرے بھائی کیپٹن عطاء اللہ صاحب تھے… مَیں نے اُنہیں حالات بتائے