تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 1089

تذکرہ — Page 373

۴؍ دسمبر۱۹۰۰ء ’’ منشی الٰہی بخش اکونٹنٹ کی کتاب عصائے موسیٰ مجھ کو ملی جس میں میری ذاتیات کی نسبت محض سُوءِ ظن سے اور خدا کی بعض سچی اور پاک پیشگوئیوں پر سراسر شتاب کاری سے حملے کئے گئے ہیں۔وہ کتاب جب مَیں نے ہاتھ سے چھوڑی تو تھوڑی دیر کے بعد منشی الٰہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہوا۔یُرِیْدُ وْنَ اَنْ یَّـرَوْا طَـمَثَکَ۔وَاللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یُّرِیَکَ اِنْعَامَہٗ۔اَ۔لْاِنْعَامَاتِ الْمُتَوَاتِرَۃَ۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ اَوْلَادِیْ۔وَاللّٰہُ وَلِیُّکَ وَ رَبُّکَ۔فَقُلْنَا یَا نَارُ کُـوْنِیْ بَـرْدًا۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ ھُمْ یُـحْسِنُوْنَ الْـحُسْنٰی۔؎۱ ترجمہ۔یہ لوگ خونِ حیض تجھ میں دیکھنا چاہتے ہیں یعنی ناپاکی اور پلیدی اور خباثت کی تلاش میں ہیں اور خدا چاہتا ہے کہ اپنی متواتر نعمتیں جو تیرے پر ہیں دکھلاوےاور خونِ حیض سے تجھے کیوں کر مشابہت ہو اور وہ کہاں تجھ میں باقی ہے۔پاک تغیرات نے اس خون کو خوبصورت لڑکا بنادیا اور وہ لڑکا جو اس خون سے بنا میرے ہاتھ سے پیدا ہوا اِس لئے تو مجھ سے بمنزلہ اولاد کے ہے۔یعنی گو بچوں کا گوشت پوست خونِ حیض سے ہی پیدا ہوتا ہے مگر وہ خونِ حیض کی طرح ناپاک نہیں کہلا سکتے۔اسی طرح تُو بھی انسان کی فطرتی ناپاکی سے جو لازمِ بشریّت ہے اور خونِ حیض سے مشابہ ہے ترقی کر گیا ہے۔اب اس پاک لڑکے میں خونِ حیض کی تلاش کرنا حُمق ہے۔وہ تو خدا کے ہاتھ سے غلامِ زکی بن گیا اور اس کے لئے بمنزلہ اولاد کے ہوگیا۔اور خدا تیرا متولّی اور تیرا پرورندہ ہے اس لئے خاص طور پر پدری مشابہت درمیان ہے۔جس آگ کو اس کتاب عصائے موسیٰ سے بھڑکانا چاہا ہے ہم نے اُس کو بجھا دیا ہے۔خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے جو نیک کاموں کو پوری خوبصورتی کے ساتھ انجام دیتے ہیں اور تقویٰ کے باریک پہلوؤں کا لحاظ رکھتے ہیں۔‘‘ (اربعین نمبر ۴۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۵۱، ۴۵۲ حاشیہ) ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) اخبار الحکم مورخہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۰ء صفحہ ۶ پر اس الہام کی نسبت لکھا ہے کہ۔’’آپ نے ۴؍دسمبر ۱۹۰۰ء کی صبح کو فرمایا کہ رات کو الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ کی کتاب کے آنے کا نقشہ میرے سامنے پیش کیا گیا اور پھر یہ الہام ہوا……‘‘ اِس الہام پر حضرت ؑ نے فرمایا کہ ’’یہ الہام اپنے اندر ایک علمی اور فلسفیانہ پہلو رکھتا ہے جو طمثؔ کے لفظ سے اور اس کے مقابلہ میں اَوْلَادِیْ کے لفظ میں رکھا گیا ہے۔کیا مطلب کہ یہ مخاطب لوگ تو ایک ناپاک اور ردّی شَے سمجھتے ہیں حالانکہ ان کو اتنی خبر نہیں ہے کہ اَنْتَ مِـنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ اَوْلَادِیْ۔غرض یہ ہے کہ اس مبشر الہام سے صادق مسیح موعود علیہ السلام کا انجام ایک غضب و غصہ کے فرزند کے بالمقابل صاف معلوم ہوتا ہے۔‘‘