تذکرہ — Page 345
دنیا پر عام اثر ہوتا ہو کہے گا کہ اے ہامان میرے لئے اس فتنہ کی آگ بھڑکا تا مَیں اُس شخص کے خدا پر اطلاع پاؤں اور مَیں خیال کرتا ہوں کہ یہ جھوٹا ہے۔۱۱۹۔ہلاک ہوگئے دونوں ہاتھ ابی لہب کے اور وہ بھی ہلاک ہوگیا۔(یعنی جس نے یہ فتویٰ لکھا یا لکھوایا)اُس کو نہیں چاہیےتھا کہ اس معاملہ میں دخل دیتا مگر ڈرتے ڈرتے؎۱… ۱۲۰۔اس فتویٰ تکفیر سے جو کچھ تکلیف تجھے پہنچے گی وہ تو خدا کی طرف سے ہے۔۱۲۱۔یہ ایک فتنہ ہوگا پس صبر کرو جیسا کہ اولو العزم نبیوں نے صبر کیا۔۱۲۲۔اور آخر خدا منکرین کے مکر کو سُست کردے گا۔۱۲۳۔سمجھ اور یاد رکھ کہ یہ فتنہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا تا وہ تجھ سے بہت سا پیار کرے۔یہ اس خدا کا پیار ہے جو غالب اور بزرگ ہے ۱۲۴۔اور اس مصیبت کے صلہ میں ایک ایسی بخشش ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی۔۱۲۵۔مَیں ایک پوشیدہ خزانہ تھا پس مَیں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں۔۱۲۶۔زمین اور آسمان دونوں ایک سربستہ گٹھڑی کی طرح ہوگئے تھے۔جن کے جواہر اور اسرار پوشیدہ تھے۔پس ہم نے ان دونوں کو کھول دیا یعنی اس زمانہ میں ایک قوم پیدا ہوگئی جو اَرضی خواص اور طبائع کو ظاہر کررہے ہیں اور ان کے مقابل پر ایک دوسری قوم پیداکی گئی جن پر آسمان کے دروازے کھولے گئے ۱۲۷۔اور تجھے منکروں نے ایک ہنسی کی جگہ بنا رکھا ہے۔۱۲۸۔اور کہتے ہیں کیا یہی ہے جس کو خدا نے مبعوث فرمایا۔۱۲۹۔کہہ مَیں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے فقط ایک بشر ہوں مجھ کو یہ وحی ہوتی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔۱۳۰۔اور تمام بہتری قرآن میں ہے۔۱۳۱۔لٹک کر چل کہ تیرا وقت پہنچ گیا اور محمدیوں کا پَیر ایک بلند اور محکم مینار پر پڑگیا۔۱۳۲۔وہی پاک محمدؐ جو نبیوں کا سردار ہے۔۱۳۳۔اے عیسیٰ! مَیں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اُٹھاؤں گا… مَیں تیری جماعت کو تیرے مخالفوں پر قیامت تک غلبہ دوں گا۔۱۳۴۔ایک گروہ پہلوں میں سے ہوگا جو اوائل حال میں قبول کرلیں گے اور ایک گروہ پچھلوں میں سے ہوگا جو متواتر نشانوں کے بعد مانیں گے۔۱۳۵۔مَیں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤں گا۔۱۳۶۔دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کردے گا۔۱۳۷۔خدا اُس کا نگہبان ہے خدا کی عنایت اس کی نگہبان ہے۔۱۳۸۔ہم نے اس کو اتارا اور ہم ہی اُس کے نگہبان ہیں۔۱۳۹۔خدا بہتر نگہبانی کرنے والا ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ جو فرمایا کہ اگر دخل دیتا تو چاہیےتھاکہ ڈرتے ڈرتے دخل دیتا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر کوئی بات کسی مجدّد وقت کی کسی کو سمجھ نہ آوے تو کچھ مضائقہ نہیں کہ ڈرتے ڈرتے نیک نیتی اور پاک دل کے ساتھ اس مسئلہ میں بحث کرے مگر عداوت اور بدزبانی تک اس معاملہ کو نہ پہنچاوے کہ انجام اس کا سلبِ ایمان اور ابو لہب کا خطاب ہے۔‘‘ (ضیاء الحق۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۲۹۴)