تذکرہ — Page 336
مانتا تھا کہ اس خواب کی تعبیر صحت ہو سو اب اس خواب کی تعبیر ظہور میں آئی۔اِنَّـا لِلّٰہِ وَ اِنَّـا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔‘‘ ( از مکتوب بنام ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۳ صفحہ ۳۷۸ مطبوعہ ۲۰۱۳ء) ۲۵؍ اپریل ۱۹۰۰ء ’’ اِس خط کے لکھنے کے وقت میں جو ایوب بیگ مرحوم کی طرف توجہ تھی کہ وہ کیوں کر جلد ہماری آنکھوں سے ناپدید ہوگیا اور تمام تعلقات کو خواب و خیال کرگیا کہ یک دفعہ الہام ہوا۔مبارک وہ آدمی جو اس دروازہ کے راہ سے داخل ہو یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عزیزی ایوب بیگ کی موت نہایت نیک طور پر ہوئی ہے اور خوش نصیب وہ ہے جس کی ایسی موت ہو۔‘‘ ( از مکتوب بنام ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۳ صفحہ ۳۷۸ مطبوعہ ۲۰۱۳ء) ۱۹۰۰ء ’’ خدا نے مجھے کہا کہ اُٹھ اور ان لوگوں کو کہہ دے کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے۔پس کیا تم خدا کی گواہی ردّ کردو گے۔خدا کا کلام جو میرے پر نازل ہوا اُس کے یہ الفاظ ہیں۔قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ۔قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُـحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُـحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔وَقُلْ یٰٓـاَ یُّـھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَـمِیْعًا۔اَیْ مُرْسَلٌ مِّنَ اللّٰہِ۔(از اشتہار معیار الاخیار۔مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۳۷،۳۸ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) (ترجمہ) ان کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم ایمان لاؤ گے یا نہیں۔ان کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم قبول کروگے یا نہیں۔کہہ اگر تم خدا سے محبّت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبّت رکھے۔؎۱‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۴ و ۸۲) ۲۸؍ مئی ۱۹۰۰ء ’’ اب اس رسالہ؎۲ کی تحریر کے وقت میرے پر یہ منکشف ہوا کہ جو کچھ براہین احمدیہ میں قادیان کے بارے میں کشفی طور پر مَیں نے لکھا یعنی یہ کہ اس کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے۔درحقیقت یہ صحیح بات ہے کیونکہ یہ یقینی امر ہے کہ قرآن شریف کی یہ آیت کہ سُـبْحَانَ الَّذِیْٓ اَسْـرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ ۱ (بقیہ ترجمہ از مرتّب) اور کہہ کہ اے لوگو! مَیں تم سب کی طرف خدا تعالیٰ کا رسول ہوکر آیا ہوں۔یعنی اللہ کا فرستادہ۔۲ خطبہ الہامیہ (مرزا بشیر احمد)