تذکرہ — Page 337
الْمَسْجِدِ الْـحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہٗ؎۱ معراج مکانی اور زمانی دونوں پر مشتمل ہے اور بغیر اس کے معراج ناقص رہتا ہے۔پس جیسا کہ سیرِ مکانی کے لحاظ سے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدالحرام سے بیت المقدس تک پہنچا دیا تھا ایسا ہی سیر زمانی کے لحاظ سے آنجناب کو شوکت ِاسلام کے زمانہ سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا برکاتِ اسلامی کے زمانہ تک جو مسیح موعود کا زمانہ ہے پہنچا دیا۔پس اِس پہلو کے رُو سے جو اسلام کے انتہاءِ زمانہ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سَیرِ کشفی ہے۔مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے۔جس کی نسبت براہین احمدیہ میں خدا کا کلام یہ ہے۔مُبَارَکٌ وَّمُبَارِکٌ وَکُلُّ اَمْرٍ مُّبَارَکٍ یُـجْعَلُ فِیْہِ۔؎۲ اور یہ مبارک کا لفظ جو بصیغہ مفعول او رفاعل واقع ہوا قرآن شریف کی آیت بَارَکْنَا حَوْلَہٗ کے مطابق ہے۔پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے۔‘‘ (از اشتہار چندہ منارۃ المسیح مورخہ ۲۸؍مئی ۱۹۰۰ء۔ضمیمہ خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۲۰، ۲۱ حاشیہ) ۲؍ جون ۱۹۰۰ء ’’آج۲؍جون ۱۹۰۰ء کو بروز شنبہ بعد دوپہر دو بجے کے وقت مجھے تھوڑی سی غنودگی کے ساتھ ایک ورق جو نہایت سفید تھا دکھلایا گیا۔اُس کی آخری سطر میں لکھا تھا۔اِقبال مَیں خیال کرتا ہوں کہ آخر سطر میں یہ لفظ لکھنے سے انجام کی طرف اشارہ تھا۔یعنی انجام باقبال ہے۔پھر ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔قادر کے کاروبار نمودار ہوگئے کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہوگئے اس کے یہ معنے مجھے سمجھائے گئے کہ عنقریب کچھ ایسے زبردست نشان ظاہر ہوجائیں گے جس سے کافر کہنے والے جو مجھے کافر کہتے تھے الزام میں پھنس جائیں گے اور خوب پکڑے جائیں گے اور کوئی گریز کی جگہ ان کے لئے باقی نہیں رہے گی۔یہ پیشگوئی ہے ہر ایک پڑھنے والا اس کو یاد رکھے۔‘‘ (اشتہار مشمولہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۷۷ حاشیہ) ۱ (ترجمہ از ناشر) پاک ہے وہ جو رات کے وقت اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف لے گیا جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہے۔(بنی اسرائیل: ۲) ۲ (ترجمہ) یہ مسجد برکت دی گئی ہے اور برکت دینے والی ہے اور ہر ایک کام جو برکت دیا گیا ہے وہ اس میں کیا جائے گا۔(نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۲۵)