تذکرہ — Page 299
۱۰؍ مارچ ۱۸۹۹ء ’’۱۰؍ مارچ ۱۸۹۹ء کی صبح کو بوقت سیر حضرت حجۃ اللہ نے فرمایاکہ ’’ مَیں نے خواب میں دیکھا کہ مبارکہ سلّمہا اللہ پنجابی زبان میں بول رہی ہے کہ مینوں کوئی نہیں کہہ سکدا کہ ایسی آئی جس نے ایہہ مصیبت پائی۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۱ مورخہ۱۰؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ۲) ۱۳ ؍اپریل ۱۸۹۹ء ’’۱۳؍اپریل ۱۸۹۹ء کو یہ الہام ہوا۔اِصْبِرْ مَلِیًّا سَاَھَبُ لَکَ غُلَامًا زَکِیًّا یعنی کچھ تھوڑا عرصہ صبر کر کہ مَیں تجھے ایک پاک لڑکا عنقریب عطا کروں گا اور یہ پنجشنبہ کا دن تھا اور ذی الحج ۱۳۱۶ھ کی دوسری تاریخ تھی جبکہ یہ الہام ہوا اور اس الہام کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا رَبِّ اَصِـحَّ زَوْجَتِیْ ھٰذِہٖ یعنی اے میرے خدا! میری اِس بیوی کو بیمار ہونے سے بچا اور بیماری سے تندرست کر۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس بچہ کے پیدا ہونے کے وقت کسی بیماری کا اندیشہ؎۱ ہے۔سو اس الہام کو مَیں نے اس تمام جماعت کو سنادیا جو میرے پاس قادیان میں موجود تھے اور اخویم مولوی عبدالکریم صاحب نے بہت سے خط لکھ کر اپنے تمام معزز دوستوں کو اس الہام سے خبر کر دی۔‘‘ (تریاق القلوب۔رُوحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ ۲۱۶، ۲۱۷) ۱۹؍مئی ۱۸۹۹ء ’’۱۹؍ مئی ۱۸۹۹ء کو حضرت اقدسؑ کو یہ الہام ہوا تھا۔’’ اِنَّـا لَنَعْلَمُ الْاَمْرَ وَ اِنَّـا عَالِمُوْنَ سَیُبْدَی الْاَمْرُ وَنَنْسِفَنَّ نَسْفًا۔‘‘ ؎۲ (از خط مولوی عبدالکریم صاحبؓ۔مندرجہ الحکم جلد ۳ نمبر۲۲ مورخہ ۲۳؍جون ۱۸۹۹ء صفحہ ۸) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’بچہ پیدا ہونے کے بعد جیسا کہ الہام کا منشا تھا میری بیوی بیمار ہوگئی چنانچہ اب تک بعض عوارض مرض موجود ہیں اور اعراض شدیدہ سے بفضلہ تعالیٰ صحت ہوگئی ہے۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ ۲۱۷ حاشیہ) ۲ (ترجمہ از مرتّب) ہم اصل بات جانتے ہیں اور بے شک ہم جاننے والے ہیں۔وہ بات عنقریب ظاہر کردی جائے گی اور یقیناً ہم ذرّہ ذرّہ کرکے اُڑادیں گے۔