تذکرہ — Page 300
۱۳؍جون ۱۸۹۹ء (الف) ’’جب ۱۳؍جون ۱۸۹۹ء کا دن چڑھا جس پر الہام مذکورہ کی تاریخ کو جو ۱۳؍اپریل ۱۸۹۹ء کو ہوا تھا پورے ۲دو مہینے ہوتے تھے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُسی لڑکےکی مجھ میں رُوح بولی اور الہام کے طور پر یہ کلام اس کا مَیں نے سنا۔اِنِّیْ اَسْقُطُ مِنَ اللّٰہِ وَ اُصِیْبُہٗ یعنی اَب میرا وقت آگیا اور مَیں اب خدا کی طرف سے اور خدا کے ہاتھوں سے زمین پر گروں گا اور پھراُسی کی طرف جاؤں گا… اور پھر بعد اس کے ۱۴؍جون ۱۸۹۹ء کو وہ پیدا ہوا۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۱۷) (ب)’’ مجھے خدا تعالیٰ نے خبر دی کہ مَیں تجھے ایک اَور لڑکا دوں گا اور یہ وہی چوتھا لڑکا ہے جو اَب پیدا ہوا جس کا نام مبارک احمد رکھا گیا اور اس کے پیدا ہونے کی خبر قریباً ۲دو برس؎۱ پہلے مجھے دی گئی اور پھر اس وقت دی گئی کہ جب اس کے پیدا ہونے میں قریباً ۲دو مہینے باقی رہتے تھے اور پھر جب یہ پیدا ہونے کو تھا یہ الہام ہوا۔اِنِّیْ اَسْقُطُ مِنَ اللّٰہِ وَ اُصِیْبُہٗ یعنی مَیں خدا کے ہاتھ سے زمین پر گرتا ہوں اور خدا ہی کی طرف جاؤں گا۔مَیں نے اپنے اجتہاد سے اِس کی یہ تاویل کی کہ یہ لڑکا نیک ہوگا اور رُو بخدا ہوگا اور خدا کی طرف اس کی حرکت ہوگی اور یا یہ کہ جلد فوت ہوجائے؎۲ گا۔اس بات کا علم خدا تعالیٰ کو ہے کہ ان دونوں باتوں میں سے کونسی بات اس کے ارادہ کے موافق ہے۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۱۳،۲۱۴) ۱۳؍ جون ۱۸۹۹ء ’’ پھر اس؎۳ کے بعد الہام ہوا۔کَــفٰی ھٰــذَا ‘‘؎۴ (از خط مولوی عبدالکریم صاحبؓ مندرجہ الحکم جلد ۳ نمبر ۲۳ مورخہ ۳۰؍جون ۱۸۹۹ء صفحہ۷) (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) ایک رنگ میں اس پسر چہارم کا وعدہ اس کے ظہور کے چودہ برس پہلے بھی دیا گیا تھا دیکھیے الہام ۱۸۸۵ء صفحہ ۱۱۳۔۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) صاحبزادہ مرزا مبارک احمد بچپن میں ہی ۱۶؍ستمبر ۱۹۰۷ء کو وفات پاگیا۔۳ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یعنی الہام اِنِّیْٓ اَسْقُطُ مِنَ اللّٰہِ وَ اُصِیْبُہٗ کے بعد۔۴ (ترجمہ از مرتّب) یہ کافی ہے۔(نوٹ ازمولانا عبد اللطیف بہاولپوری) اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اب آپ کے ہاں کوئی اور نرینہ بچہ پیدا نہ ہوگا۔