تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 1089

تذکرہ — Page 276

پھر بعد اس کے الہام ہوا۔اِنَّـمَا اَمْرُنَا اِذَا اَرَدْ نَا شَیْئًا اَنْ نَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ۔یعنی ہمارے اُمور کے لئے ہمارا یہی قانون ہے کہ جب ہم کسی چیز کا ہوجانا چاہتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ہوجا پس وہ ہوجاتی ہے۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ ۳۴۱ تا ۳۴۳) (ب) ’’ مقدّمہ ؎۱سے تین ماہ پہلے مندرجہ ذیل الہام اس ابتلاء؎۲ کے بارے میں ہوئے۔قَدِابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ۔مَاھٰذَا اِلَّا تَـھْدِ۔یْدُ الْـحُکَّامِ۔اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ۔اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔یَاْتِیْکَ نُصْـرَتِیْ۔اِنِّیْ اَنَا الرَّحْـمٰنُ ذُوالْمَجْدِ وَالْعُلٰی۔مخالفوں میں پھوٹ … اور ایک شخص متنافس کی ذلّت اور اہانت اور ملامت ِ خلق۔(اور اخیر حکم) اِبْرَآء بے قصور ٹھہرانا۔بَلَجَتْ اٰیَـاتِیْ۔یعنی تجھ پر اور تیرے ساتھ کے مومنوں پر مؤاخذۂ حکام کا ابتلا آئے گا۔وہ ابتلا صرف تہدید ہوگا اس سے زیادہ نہیں۔وہ خدا جس نے خدمت ِ قرآن تجھے سپرد کی ہے پھر تجھے قادیان میں واپس لائے گا۔مَیں اپنے فرشتوں کے ساتھ ناگہانی طور پر تیری مدد کروں گا۔میری مدد تجھے پہنچے گی۔مَیں ذوالجلال بلند شان والا رحمٰن ہوں۔مَیں مخالفوں میں پھوٹ ڈالوں گا۔( اس میں یہ اشارہ ہے کہ آخر عبدالحمید اور پادری گر۳؎ے اور نوردین عیسائی مخالفانہ بیان کردیں گے) اور یہ فقرہ کہ متنافس کی ذلّت اور اہانت اور ملامتِ خلق۔یہ محمد حسین کی طرف اشارہ ہے کہ کرسی کے معاملہ میں اور پھر پادریوں کے خلاف واقعہ شہادت پر طرح طرح کی ذلّت اور ملامتِ خلق اُس کو پیش آئی اور انجام کار یہ ہوگا کہ تمہیں بَری اور بے قصور ٹھہرایا جائے گا اور میرا نشان ظاہر ہوگا۔‘‘ (ٹائٹل پیج کتاب البر ّیہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳۔صفحہ اوّل) (ج) ’’ ایک الہام یہ تھا کہ مخالفوں میں پھوٹ اور ایک شخص متنافس کی ذلّت اور اہانت اور ملامت خلق چنانچہ اس الہام کا ایک حصہ تو اس طرح پورا ہوا کہ ہمارے مخالفین یعنی عبدالحمید اور اس کے سکھانے والے عیسائیوں میں پھوٹ پڑی کہ عبدالحمید نے صاف اقرار کرلیا کہ مجھے ان لوگوں نے یہ جھوٹی بات سکھائی تھی ورنہ ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یعنی مقدمہ اقدامِ قتل منجانب پادری مارٹن کلارک بخلاف حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔۲ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) یعنی ابتلاء مقدمہ مذکور جس کی پیشگوئی براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۱۶،۶۱۷ میں اس مقدمہ سے اٹھارہ برس پہلے شائع ہوئی تھی۔۳ Padre Gray