تذکرہ — Page 275
پھر اس کے بعد یہ الہام ہوا۔اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ۔اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔یَاْتِیْکَ۱؎ نُصْـرَتِیْ۔اِنِّیْٓ اَنَا الرَّحْـمٰنُ ذُوالْمَجْدِ وَالْعُلٰی۔یعنی وہ قادر خدا جس نے تیرے پر قرآن فرض کیا پھر تجھے واپس لائے گا یعنی انجام بخیر و عافیت ہوگا۔مَیں اپنی فوجوں کے سمیت (جو ملائکہ ہیں) ایک ناگہانی طور پر تیرے پاس آؤں گا۔مَیں رحمت کرنے والا ہوں۔مَیں ہی ہوں جو بزرگی اور بلندی سے مخصوص ہے یعنی میرا ہی بول بالا رہے گا۔پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا کہ مخالفوں میں پھُوٹ اور ایک شخص متنافس کی ذلّت اور اہانت اور ملامت ِ خلق۔؎۲ (اور پھر اخیر حکم) اِبْرَآء یعنی بے قصور ٹھہرانا۔پھر بعد اس کے الہام ہوا۔وَ فِــــیْـــــہِ شَیْءٌ یعنی بریّت تو ہوگی مگر اس میں کچھ چیز ہوگی (یہ اس نوٹس کی طرف اشارہ تھا جو بَری کرنے کے بعد لکھا گیا تھا کہ طرزِ مباحثہ نرم چاہیے) پھر ساتھ اس کے یہ بھی الہام ہوا کہ بَـــلَـــجَـــتْ اٰیَــاتِیْ کہ میرے نشان روشن ہوں گے اور ان کے ثبوت زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوجائیں گے (چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس مقدّمہ میں جو ستمبر ۱۸۹۹ء میں عدالت مسٹر جے۔آر۔ڈریمنڈ۳؎ صاحب بہادر میں فیصلہ ہوا۔عبدالحمید ملزم نے دوبارہ اقرار کیا کہ میرا پہلا بیان جھوٹا تھا)۔اور پھر الہام ہوا۔لِوَآءُ فَتْحٍ۔یعنی فتح کا جھنڈا ۱ (ترجمہ از ناشر) میری مدد تجھے پہنچے گی۔۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اصل لفظ الہام کے بٹالوی کی نسبت بہت سخت تھے ہم نے نرم الفاظ میں ان کا ترجمہ کردیا ہے۔‘‘ (کتاب البریّہ۔ٹائٹل پیج۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ ۱) ۳ Mr۔J۔R۔Drummond