تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 1089

تذکرہ — Page 277

اصل میں یہ کچھ بات نہ تھی صرف ان کے بہکانے پر مَیں نے ایسا کہا… اور دوسرا حصّہ الہام کا اس طرح سے پورا ہوا کہ دورانِ مقدّمہ میں جب مُوحّدین کے ایڈووکیٹ مولوی محمد حسین میری مخالفت میں عیسائیوں کے گواہ بن کر پیش ہوئے تو برخلاف اپنی اُمیدوں کے میری عزت دیکھ کر اُس طمع خام میں پڑے کہ ہم بھی کرسی مانگیں چنانچہ آتے ہی انہوں نے سوال کیا کہ مجھے کرسی ملنی چاہیے مگر افسوس کہ صاحب ڈپٹی کمشنر نے اُن کو جھڑک دیا اور سخت جھڑکا کہ تم کو کرسی نہیں مل سکتی۔سو یہ خدا کا ایک نشان تھا کہ جو کچھ انہوں نے میرے لئے چاہا وہ خود اُن کو پیش آگیا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۵۷۷،۵۷۸) اکتوبر۱۸۹۷ء ’’ شروع اکتوبر ۱۸۹۷ء میں مجھے دکھایا گیا کہ مَیں ایک گواہی کے لئے ایک انگریز حاکم کے پاس حاضر کیا گیا ہوں اور اس حاکم نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کے والد کا کیا نام ہے؟ لیکن جیسا کہ شہادت کے لئے دستور ہے، مجھے قسم نہیں دی۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۵۹۹) ۸؍اکتوبر۱۸۹۷ء ’’ ۸؍اکتوبر ۱۸۹۷ء کو مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ اس مقدمہ؎۱ کا سپاہی سمن لے کر آیا ہے۔یہ خواب مسجد میں عام جماعت کو سنادی گئی تھی۔آخر ایسا ہی ظہور میں آیا اور سپاہی سمن لے کر آگیا اور معلوم ہوا کہ ایڈیٹر اخبار ناظم اؔلہند لاہور نے مجھے گواہ لکھا دیا ہے… سو جب مَیں ملتان میں پہنچ کر عدالت میں گواہی کے لئے گیا تو ویسا ہی ظہور میں آیا۔حاکم کو ایسا سہو ہوگیا کہ قسم دینا بھول گیا اور اظہار شروع کردیئے۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۵۹۹) ۱۸۹۷ء اس عاجز کو اپنے الہامات میں خدا تعالیٰ مخاطب کرکے فرماتا۲؎ ہےکہ ’’ تو مجھ سے اور مَیں تجھ سے ہوں اور زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں جیسا کہ میرے ساتھ ہیں اور تو ہمارے پانی میں سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے اور تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تو مجھ سے اس مقام اتحاد میں ہے جو کسی مخلوق کو معلوم نہیں خدا اپنے عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔تو اس سے نکلا اور اس نے تمام دنیا سے تجھ کو چنا۔تو میری درگاہ میں ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یعنی وہ مقدمہ جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام شہادت کے لئے ۲۹،۳۰؍اکتوبر کو ملتان تشریف لے گئے تھے۔۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ الہامات میری کتاب براہین احمدیہ اور آئینہ کمالات اسلام اور ازالہ اوہام اور تحفہ بغداد وغیرہ میں شائع ہوچکے ہیں اور قریباً پچیس سال سے ان کو شائع کررہا ہوں۔‘‘ (کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۱۰۰ حاشیہ)