تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 250 of 1089

تذکرہ — Page 250

۳۵وَ لَوْ کَانَ الاِیْـمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّـرَیَّـا لَنَالَہٗ۔۳۶۔سُـبْحَانَ الَّذِیْٓ اَسْـرٰی بِعَبْدِ ہٖ لَیْلًا۔۳۷۔خَلَقَ اٰدَمَ فَاَکْرَمَہٗ۔۳۸۔جَرِیُّ اللّٰہِ فِی حُلَلِ الْاَ۔نْبِیَآءِ۔۳۹۔اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّ وْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ رَدَّ عَلَیْھِمْ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ۔شَکَرَ اللّٰہُ سَعْیَہٗ۔۴۰۔کِتَابُ الْوَلِیِّ ذُوالْفِقَارِ عَلِیٍّ۔۴۱۔یَکَادُ زَیْتُہٗ یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَـمْسَسْہُ نَـارٌ۔۴۲۔خُذُوا التَّوْحِیْدَ التَّوْحِیْدَ یَآ اَبْنَآءَ الْفَارِسِ۔۴۳۔اِنَّا اَنْـزَلْنَاہُ قَرِیْبًا مِّنَ الْقَادِیَانِ وَبِالْـحَقِّ اَنْـزَلْنَاہُ وَبِالْـحَقِّ نَـزَلَ وَ کَانَ اَمْرُاللّٰہِ مَفْعُوْلًا۔۴۴۔اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَـحْنُ جَـمِیْعٌ مُّنْتَصِـرٌ۔سَیُھْزَمُ الْـجَمْعُ وَ یُـوَلُّوْنَ الدُّ بُـرَ۔۴۵۔یَا عَبْدِیْ لَا تَـخَفْ اِنِّیْ اَسْـمَعُ وَاَرٰی۔۴۶۔اَلَمْ تَرَ اَنَّـا نَـاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا۔اَلَمْ تَـرَاَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔۴۷۔صَلِّ عَلٰی مُـحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُـحَمَّدٍ سَیِّدِ وُلْدِ اٰدَمَ وَخَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ۔۴۸۔اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔۴۹۔فَاصْدَعْ بِـمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْـجَاھِلِیْنَ۔۵۰۔وَقَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْ قَرْیَتَیْنِ۱؎ عَظِیْمٍ۔۵۱۔وَ قَالُوْا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا اِنْ ھٰذَا لَمَکْـرٌ مَّکَرْتُـمُوْہُ فِی الْمَدِیْنَۃِ۔وَ اَعَانَہٗ عَلَیْہِ قَـوْمٌ اٰخَرُوْنَ۔۵۲۔یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ وَھُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ۔۵۳۔اِعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ بقیہ ترجمہ۔۳۵اور اگر ایمان ثریّا سے معلّق ہوتا تب بھی اسے پالیتا۔۳۶پاک ہے وہ جس نے اپنے بندہ کو رات میں سیر کرایا۔۳۷آدم کو پیدا کیا اوراس کو عزت دی۔۳۸خدا کا فرستادہ نبیوں کے حلّہ میں۔۳۹وہ لوگ جو کافر ہوگئے اور خدا کی راہ سے روکنے لگے۔ایک فارسی الاصل آدمی نے اُن کے خیالات کو ردّ کیا۔خدا اس کی کوشش کا شکر گذار ہے۔۴۰اس ولی کی کتاب ایسی ہے جیسے علی کی ذوالفقار۔۴۱اس کا تیل یونہی چمکنے کو ہے اگرچہ آگ چھو بھی نہ جائے۔۴۲توحید کو پکڑو توحید پکڑواے فارس کے بیٹو! ۴۳ہم نے اِس کو قادیان کے قریب اُتارا ہے اور حق کے ساتھ اُتارا ہے اور ضرورت ِ حقّہ کے ساتھ اُترا ہے اور جو خدا نے ٹھہرا رکھا تھا وہ ہونا ہی تھا۔۴۴کیا یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت انتقام لینے والی ہیں۔سب بھاگ جائیں گے اور پیٹھ دکھلائیں گے۔۴۵اے میرے بندے ! مت خوف کر مَیں دیکھتا ہوں اور سنتا ہوں۔۴۶کیا تُونے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو کم کرتے چلے آتے ہیں اس کی طرفوں سے۔کیا تُونے نہیں دیکھا کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔۴۷محمدؐ پر اور اس کے آل پر درُود بھیج۔وہ بنی آدم کا سردار اور خاتم الانبیاء ہے۔۴۸تو صراطِ مستقیم پر ہے۔۴۹پس جو کچھ حکم ہوتا ہے کھول کر بیان کر اور جاہلوں سے کنارہ کر۔۵۰اور کہتے ہیں کہ دوشہروں۱؎میں ایک بڑے آدمی کو خدا نے کیوں مامور نہ کیا۔۵۱اور کہتے ہیں کہ تجھے کہاں یہ رُتبہ ،یہ تو مکر ہے کہ مِل جُل کر بنایا گیا ہے اور کئی لوگوں نے اس مکر میں اس شخص کی مدد کی ہے۔۵۲تجھے دیکھتے ہیں اور تُو انہیں نظر نہیں آتا۔۵۳اے لوگو ! جان لو کہ ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یعنی اس شخص کو مہدی موعود ہونے کا دعویٰ ہے جو پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں قادیان کا رہنے والا ہے کیوں مہدی معہود مکّہ یا مدینہ میں مبعوث نہ ہواجو سرزمینِ اسلام ہے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۸۵ حاشیہ)