تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 1089

تذکرہ — Page 249

۱۸۔اِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا یَـرْفَعُ اللّٰہُ ذِکْرَکَ۔وَ یُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ۔۱۹۔یَـآ اَحْـمَدُ یَـتِمُّ اسْـمُکَ وَلَا یَتِمُّ اسْـمِیْ۔۲۰۔اِنِّیْ رَافِعُکَ اِلَـیَّ۔۲۱۔اَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَـحَبَّۃً مِّنِّیْ۔۲۲۔شَانُکَ عَـجِیْبٌ وَّ اَجْرُکَ قَرِیْبٌ۔۲۳۔اَلْاَرْضُ وَالسَّمَآءُ مَعَکَ کَمَاھُوَ مَعِیْ؎۱ ۲۴۔اَنْتَ وَجِیْہٌ فِیْ حَضْـرَتِیْ۔اِخْتَرْتُکَ لِنَفْسِیْ۔۲۵۔اَنْتَ وَجِیْہٌ فِی الدُّنْیَا وَ حَضْـرَتِیْ۔۲۶۔سُـبْحَانَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔زَادَ مَـجْدَ کَ۔یَنْقَطِعُ اٰبَآءُکَ وَ یُبْدَ ءُ مِنْکَ۔۲۷۔نُصِـرْتَ بِالرُّعْبِ وَاُحْیِیْتَ بِالصِّدْقِ اَیُّـھَا الصِّدِّ یْقُ نُصِرْتَ۔۲۸۔وَ قَالُوْا لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ۔۲۹۔اٰثَـرَکَ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَ لَوْ کُنَّا کارِھِیْنَ۔رَبَّنَا اغْفِرْلَنَآ اِنَّـا کُنَّا خَاطِئِیْنَ۔لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُاللّٰہُ لَکُمْ وَھُوَ اَرْحَـمُ الرَّاحِـمِیْنَ۔۳۰۔وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَتْرُکَکَ حَتّٰی یَـمِیْزَ الْـخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ۔وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰی اَمْرِہٖ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ۔۳۱۔اِذَا جَآءَ نَصْـرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَتَـمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ ھٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْـجِلُوْنَ۔۳۲۔اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَـخَلَقْتُ اٰدَمَ۔۳۳۔سَوَّیْتُہٗ وَ نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ۔۳۴۔یُقِیْمُ الشَّرِیْعَۃَ وَ یُحْيِ الدِّیْنَ- بقیہ ترجمہ۔۱۸تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔خدا تیرے ذکر کو بلند کرے گا اور دنیا اور آخرت میں اپنی نعمت تیرے پر پوری کرے گا۔۱۹اے احمد ! تیرا نام پوراہوجائے گا قبل اس کے جو میرا نام پورا ہو۔۲۰مَیں تجھے اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں۔۲۱مَیں نے اپنی محبت کو تجھ پر ڈال دیا۔۲۲تیری شان عجیب ہے۔تیرا اجر قریب ہے۔۲۳زمین و آسمان تیرے ساتھ ہے جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہے۔۲۴تو میری جناب میں وجیہ ہے۔مَیں نے تجھے اپنے لئے چُن لیا۔۲۵تو دنیا اور میری جناب میں وجیہ ہے۔۲۶پاک ہے وہ خدا جو بہت برکتوں والا اور بہت بلند ہے۔تیری بزرگی کو اُس نے زیادہ کیا۔اب سے تیرے باپ دادے کا ذکر منقطع ہوجائے گا اور خدا تجھ سے شروع کرے گا۔۲۷تُو رعب کے ساتھ مدد دیا گیا اور صدق کے ساتھ زندہ کیا گیا۔اے صدیق! تو مدد دیا گیا۔۲۸اور مخالف کہیں گے کہ اب گریز کی جگہ نہیں۔۲۹خدا نے تجھے ہم پراختیار کرلیا۔اگرچہ ہم کراہت کرتے تھے۔اے ہمارے خدا! ہمیں بخش کہ ہم خطا پر تھے۔آج تم پر اَے رجوع کرنے والو! کچھ سرزنش نہیں۔خدا تمہیں بخش دے گا اور وہ ارحم الراحمین ہے۔۳۰اور خدا ایسا نہیں کہ تجھے یونہی چھوڑ دے جب تک پاک اور پلید میں فرق کرکے نہ دکھلاوے اور خدا اپنے امر پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے۔۳۱جب خد اکی مدد اور فتح آئی اور اس کا کلمہ پورا ہوا۔کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس میں تم جلدی کرتے تھے۔۳۲مَیں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ بناؤں تو مَیں نے آدم کو پیدا کیا۔۳۳مَیں نے اس کو برابر کیا اور اپنی رُوح اس میں پھونکی۔۳۴شریعت کو قائم کرے گا اور دین کو زندہ کرے گا۔۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ ھُوَ کا ضمیر واحد باعتبار واحد فی الذہن یعنی مخلوق ہے اور ایسا محاورہ قرآن شریف میں بہت ہے۔‘‘ (انجام آتھم۔رُوحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ ۵۲ حاشیہ)