تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 1089

تذکرہ — Page 251

یُـحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـھَا۔۵۴۔وَ مَنْ کَانَ لِلہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ۔۵۵۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَالَّذِیْنَ ھُمْ مُّـحْسِنُوْنَ۔۵۶۔قَالُـوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا اخْتِلَاقٌ۔قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامٌ شَدِیْدٌ۔۵۷۔اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ۔وَاِنَّ عَلَیْکَ رَحْـمَتِیْ فِی الدُّنْیَا وَالدِّیْنِ۔وَاِنَّکَ مِنَ الْمَنْصُوْرِیْنَ۔۵۸۔یَـحْمَدُ کَ اللّٰہُ مِنْ عَرْشِہٖ۔یَـحْمَدُ کَ اللّٰہُ وَ یَـمْشِیْٓ اِلَیْکَ۔۵۹۔اَلَا اِنَّ نَصْـرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ۔۶۰۔کَمِثْلِکَ دُرٌّ لَّا یُضَاعُ۔۶۱۔بُشْـرٰی لَکَ یَـآ اَحْـمَدِیْ۔اَنْتَ مُرَادِیْ وَ مَعِیْ۔۶۲۔اِنِّیْ نَاصِـرُکَ۔اِنِّیْ حافِظُکَ۔اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۔۶۳۔اَ کَانَ لِلنَّاسِ عَـجَبًا۔قُلْ ھُوَ اللّٰہُ عَـجِیْبٌ۔یَـجْتَبِیْ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ۔لَا یُسْئَلُ عَـمَّا یَفْعَلُ وَھُمْ یُسْئَلُوْنَ۔۶۴۔وَتِلْکَ الْاَیَّـامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ۔۶۵۔وَقَالُوْا اِنْ ھٰذَا اِلَّا اخْتِلَاقٌ۔۶۶۔اِذَا نَصَـرَ اللّٰہُ الْمُؤْمِنَ جَعَلَ لَہُ الْـحَاسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ۔۶۷۔قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ۔۶۸۔لَا تُـحَاطُ اَسْـرَارُ الْاَوْلِیَآءِ۔۶۹۔تَلَـطَّفْ بِالنَّاسِ وَ تَـرَحَّـمْ عَلَیْھِمْ۔۷۰۔اَنْتَ فِیْـھِمْ بِـمَنْزِلَۃِ مُوْسٰی۔وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ۔۷۱۔وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَۃِ۔۷۲۔اَنْتَ مِنْ مَّآءِنَا وَھُمْ مِّنْ فَشَلٍ۔؎۱ ۷۳۔وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ۔قَالُوْا اَنُؤْمِنُ کَمَا اٰمَنَ السُّفَھَآءُ بقیہ ترجمہ۔زمین مرگئی تھی اور خدا پھر اُسے نئے سرے زندہ کر رہا ہے۔۵۴اور جو خدا کا ہو خدا اس کا ہوجاتا ہے۔۵۵خدا اُن کے ساتھ ہے جو پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں اور اُن کے ساتھ ہے جو نیکو کار ہیں۔۵۶کہتے ہیں کہ یہ تمام افترا ہے، کہہ اگر میں نے افترا کیا ہے ، تو یہ سخت گناہ میری گردن پر ہے۔۵۷آج تُو ہمارے نزدیک بارُتبہ اور امین ہے اور تیرے پر دین اور دُنیا میں میری رحمت ہے اور تُو مدد دیا گیا ہے۔۵۸خدا عرش پر سے تیری تعریف کرتا ہے۔خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔۵۹خبردار خدا کی مدد قریب ہے۔۶۰تیرے جیسا موتی ضائع نہیں کیا جاتا۔۶۱تجھے خوشخبری ہو، اے میرے احمد! تُو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔۶۲مَیں تیر امددگار ہوں مَیں تیرا حافظ ہوں۔مَیں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا۔۶۳کیا لوگوں کو تعجب ہوا، کہہ وہ خدا عجیب ہے جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے چُن لیتا ہے۔وہ اپنے کاموں میں پوچھا نہیں جاتا اور دوسرے پوچھے جاتے ہیں۔۶۴اور یہ دن ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں۔۶۵اور کہتے ہیں کہ یہ تو ضرور افترا ہے۔۶۶خدا جب مومن کو مدد دیتا ہے تو زمین پر اُس کے کئی حاسد بنادیتا ہے۔۶۷کہہ خدا ہے جس نے یہ الہام کیا پھر ان کو چھوڑ دے تا اپنی کج فکریوں میں بازی کریں۔۶۸اولیاء کے اسرار پرکوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔۶۹لوگوں سے لطف کے ساتھ پیش آ اور اُن پر رحم کر۔۷۰تُو ان میں بمنزلہ موسیٰ کے ہے اور ان کی باتوں پر صبر کر۔۷۱اور منعم مکذِّبوں کی سزا مجھ پر چھوڑ دے۔۷۲تو ہمارے پانی میں سے ہے اور وہ لوگ فشل سے۔۷۳اور جب ان کو کہا جائے کہ ایمان لاؤ جیسا کہ اچھے آدمی ایمان لائے تو جواب میں کہتے ہیں کہ کیا اس طرح ایمان لائیں جیسا کہ سفیہ اور بیوقوف ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ جو فرمایا کہ تُو ہمارے پانی میں سے ہے اور وہ لوگ فشل سے۔اِس