تذکرہ — Page 227
۱۸۹۴ء ’’ فَالتَّاْوِیْلُ الصَّحِیْحُ وَالْمَعْنَی الْـحَقُّ الصَّرِیْـحُ اَنَّ الْمُرَادَ مِنْ خُسُوْفِ اَوَّلِ لَیْلَۃِ رَمَضَانَ اَنْ یَّنْخَسِفَ القَمَرُ فِیْ لَیْلَۃٍ اُوْلٰی مِنْ لِّیَالٍ ثَلَاثٍ یَّکْمُلُ نُوْرُالْقَمَرِ فِیْھَا وَتَعْرِفُ اَیَّـامَ الْبِیْضِ…… اَلْمُرَادُ مِنْ قَوْلِہٖ وَتَنْکَسِفُ الشَّمْسُ فِی النِّصْفِ مِنْہُ اَنْ یَّظْھَرَ کُسُوْفُ الشَّمْسِ مُنَصِّفًا اَیَّامَ الْاِنْکِسَافِ…… وَمَاقُلْتُ مِنْ نَّفْسِیْ بَلْ ھٰذَا اِلْھَامٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔‘‘ ترجمہ۔پس تاویل صحیح اور معنی حق صریح یہ ہیں کہ یہ فقرہ کہ خسوف اوّل رات رمضان میں ہوگا اس کے معنے یہ ہیں کہ ان تین راتوں میں سے جو چاندنی راتیں کہلاتی ہیں پہلی رات میں گرہن ہوگا اور ایامِ بیض کو تُو جانتا ہے…یہ قول کہ سورج گرہن اُس کے نصف میں ہوگا۔اس سے یہ مراد ہے کہ سورج گرہن ایسے طور سے ظاہر ہوگا کہ ایامِ کسوف کو نصفا نصف کردے گا…یہ مَیں نے اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ خدا تعالیٰ کے الہام سے کہا ہے۔‘‘ (نورالحق حصّہ دوم۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۲۰۱ و ۲۰۴ و ۲۱۰) ۱۸۹۴ء ’’ اِعْلَمْ؎۱ اَنَّ اللّٰہَ نَفَثَ فِیْ رُوْعِیْ اَنَّ ھٰذَا الْـخُسُوْفَ وَالْکُسُوْفَ فِیْ رَمَضَانَ اٰیَتَانِ مُـخَوِّفَتَانِ لِقَوْمِ تَّـبَعُوْا الشَّیْطَانَ۔وَاٰثَـرُوا الظُّلْمَ وَ الطُّغْیَانَ وَ ھَیَّجُوا الْفِتَنَ وَ اَحَبُّوا الْاِفْتِنَانَ وَ مَا کَانُوْا مُنْتَھِیْنَ…… وَلَئِنْ اَبَوْا فَاِنَّ الْعَذَابَ قَدْ حَانَ۔ترجمہ۔جان کہ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں پھونکا کہ یہ خسوف اور کسُوف جو رمضان میں ہوا ہے یہ ۲دو خوفناک نشان ہیں جو اُن کے ڈرانے کے لئے ظاہر ہوئے ہیں جو شیطان کی پیروی کرتے ہیں جنہوں نے ظلم اور بے اعتدالی کو اختیار کرلیا…۲؎ اور اگر نافرمانی کی تو عذاب کا وقت تو آگیا۔‘‘ (نورالحق حصّہ دوم۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۲۲۷،۲۲۸) ۱۸۹۴ء ’’ فَـھَا اَنَا اَدْعُوْھُمْ کُلَّھُمْ کَدَعْوَتِیْ لِلنَّصَارٰی لِھٰذِ ہِ الْمُقَا بَلَۃِ وَ اُنَـادِ یْـھِمْ لِھٰذِہِ الْمُنَاضَلَۃِ اِنْ کَانُوْا مِنَ الصَّادِقِیْنَ وَعُلِّمْتُ مِنْ رَّبِّیْ اَنَّـھُمْ مِّنَ الْمَغْلُوْبِیْنَ۔؎۳‘‘ (نورالحق حصّہ دوم آخری صفحہ ٹائٹل پیج۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ۲۷۱،۲۷۲) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’مَیں نے اپنی کتاب نور الحق کے صفحہ ۳۵ سے صفحہ۳۸ تک یہ پیشگوئی لکھی ہے کہ خدا نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ رمضان میں جو خسوف کسوف ہوا یہ آنے والے عذاب کا ایک مقدمہ ہے چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق ملک میں ایسی طاعون پھیلی کہ اب تک تین لاکھ کے قریب لوگ مرگئے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۲۳۹) ۲ (ترجمہ از ناشر) ’’اور انہوں نے فتنوں کو بھڑکایا اور فتنہ بازی کو پسند کیا۔اور وہ باز آنے والے نہیں۔‘‘ ۳ (ترجمہ از مرتّب) پس لو مَیں ان تمام (مکفّر مولویوں) کو اس مقابلہ کے لئے بلاتا ہوں جیسا کہ مَیں نے عیسائیوں کو بلایا اور میں ان کو اس بحث کےلئے بلاتا ہوں اگر وہ سچوں میں سے ہیں اور میرے ربّ کی طرف سے مجھے علم دیا گیا ہے کہ وہ مغلوب ہوں گے۔