تذکرہ — Page 226
ء ’’ وَاُلْقِیَ فِیْ رُوْعِیْ اَنَّ الْمَسِیْحَ سَـمَّی الْاٰخِرِیْنَ مِنَ النَّصَارَی الدَّجَّالِیْنَ۔لَا الْاَوَّلِیْنَ۔وَاِنْ کَانَ الْاَوَّلُوْنَ اَیْضًا دَاخِلِیْنَ فِی الضَّآلِیْنَ الْمُحَرِّفِیْنَ۔وَالسِّـرُّ فِیْ ذَالِکَ اَنَّ الْاَوَّلِیْنَ مَاکَانُوْا مُـجْتَـھِدِیْنَ سَاعِیْنَ لِاِضْلَالِ الْـخَلْقِ کَمِثْلِ الْاٰخِرِیْنَ۔بَلْ مَاکَانُوْا عَلَیْـھَا قَادِ رِیْنَ۔ترجمہ۔اور میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ حضرت مسیح نے آخری زمانہ کے نصاریٰ کا نام دجّال رکھا اور ایسا نام پہلوں کا نہیں رکھا اگرچہ پہلے بھی گمراہوں میں داخل تھے اور کتابوں کی تحریف کرنے والے تھے۔سو اس میں بھید یہ ہے کہ پہلے نصاریٰ خلق اللہ کے گمراہ کرنے کی ایسی سخت کوششیں نہیں کرتے تھے جیسی پچھلوں نے کیں بلکہ وہ ان کوششوں پر قادر نہیں تھے۔‘‘ (نورالحق حصّہ اوّل۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۷۹،۸۰) ۱۸۹۴ء ’’وَاُلْقِیَ فِیْ رُوْعِیْ اَنَّ الْمُرَادَ مِنْ لَّفْظِ الرُّوْحِ فِیْ اٰیَۃِ ’’ یَـوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ‘‘ جَـمَاعَۃُ الرُّسُلِ وَالنَّبِیِّیْنَ وَالْمُحَدَّ ثِیْنَ اَجْـمَعِیْنَ الَّذِیْنَ یُلْقَی الرُّوْحُ عَلَیْھِمْ وَ یُـجْعَلُوْنَ مُکَلَّمِیْنَ۔ترجمہ۔اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ اِس آیت میں لفظ رُوح سے مراد رسولوں اور نبیوں اور محدثوں کی جماعت مراد ہے۔جن پر رُوح القدس ڈالا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ہم کلام ہوتے ہیں۔‘‘ (نورالحق حصّہ اوّل۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۹۸) ۱۸۹۴ء ’’ وَ اِنِّیْ اُلْھِمْتُ مِنْ رَّبِّیْ اَنَّکَ لَا تَقْدِ۔رُ عَلٰی ھٰذَا النِّضَالِ وَ یُبْدِی اللّٰہُ عَـجْزَکَ وَ یُـخْزِیْکَ وَ یُثْبِتُ اَنَّکَ اَسِیْرٌ فِی الْـجَھْلِ وَ الضَّلَالِ وَ لَوِاجْتَمَعَتْ قَوْمُکَ مَعَکَ عَلٰی ھٰذَا الْـخَیَالِ فَتَرْجِعُوْنَ مَغْلُوْبِیْنَ۔ترجمہ۔اورمجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ تُو؎۱اِس مقابلہ پر قادر نہیں ہوگا اور خدا تعالیٰ تیرا عجز ظاہر کردے گا اور تجھے رُسوا کردے گا اور ثابت کرے گا کہ تُو گمراہی میں اسیر ہے اور اگرچہ تیری قوم اس خیالِ مقابلہ میں تجھ سے متفق ہوجائے مگر آخر تم مغلوب ہوجاؤ گے۔‘‘ (نورالحق حصّہ اوّل۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۱۵۳) ۱۸۹۴ء ’’ وَاِنِّیْ اَرٰی اَنَّ اَھْلَ مَکَّۃَ یَدْخُلُوْنَ اَفْوَاجًا فِیْ حِزْبِ اللّٰہِ الْقَادِ۔رِ الْمُخْتَارِ وَھٰذَا مِنْ رَّبِّ السَّمَآءِ وَ عَـجِیْبٌ فِیْ اَعْیُنِ اَھْلِ الْاَرْضِیْنَ۔ترجمہ۔اور مَیں دیکھتا ہوں کہ اہلِ مکّہ خدائے قادر کے گروہ میں فوج در فوج داخل ہوجائیں گے اور یہ آسمان کے خدا کی طرف سے ہے اور زمینی لوگوں کی آنکھوں میں عجیب۔‘‘ (نورالحق حصّہ دوم۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۱۹۷) پادری عمادالدین-(مرزا بشیر احمد)