تذکرہ — Page 228
۱۸۹۴ء ’’ وَ بَشَّـرَنِیْ وَقَالَ۔اِنَّ الْمَسِیْحَ الْمَوْعُوْدَ الَّذِیْ یَرْقُبُوْنَہٗ وَالْمَھْدِیَّ الْمَسْعُوْدَ الَّذِیْ یَنْتَظِرُوْنَہٗ ھُوَاَنْتَ۔نَفْعَلُ مَا نَشَآءُ فَلَاتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۔؎۱ ‘‘ (اتـمام الـحجّۃ۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ۲۷۵) ۱۸۹۴ء ’’وَ قَالَ۔اِنَّکَ مِنَ الْمَاْمُوْرِیْنَ لِتُنْذِ۔رَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِ۔رَ اٰبَآ۔ؤُھُمْ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۔؎۲‘‘ (سـرّ الـخلافۃ۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۳۲۶) ۱۸۹۴ء ’’ وَاَظھَر عَلَـیَّ رَبِّیْ اَنَّ الصِّدِّ۔یْقَ وَالْفَارُوْقَ وَعُثْـمَانَ کَانُوْا مِنْ اَھْلِ الصَّلَاحِ وَالْاِیْـمَانِ۔وَ کَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰثَـرَھُمُ اللّٰہُ وَ خُصُّوْا بِـمَوَاھِبِ الرَّحْـمَانِ…………… وَ اِنِّیْ اُخْبِرْتُ اَنَّـھُمْ مِّنَ الصَّالِـحِیْنَ وَ مَنْ اٰذَاھُمْ فَقَدْ اٰذَی اللّٰہَ وَکَانَ مِنَ الْمُعْتَدِیْنَ۔‘‘؎۳ (سـرّ الـخلافۃ۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۳۲۶،۳۲۷) ۱۸۹۴ء ’’وَ عُلِّمْتُ اَنَّ الصِّدِّیْقَ اَعْظَمُ شَانًـا وَّ اَرْفَعُ مَکَا نًـا مِّنْ جَـمِیْعِ الصَّحَا بَۃِ۔؎۴‘‘ (سـرّ الـخلافۃ۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۳۳۷) ۱۸۹۴ء ’’ کَانَ؎۵ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَارِفًا تَآمَّ الْمَعْرِفَۃِ حَلِیْمَ الْـخُلُقِ رَحِیْمَ الْفِطْرَۃِ۔وَکَانَ یَعِیْشُ فِیْ زِیِّ الْاِنْکِسَارِ وَالْغُرْبَۃِ۔وَکَانَ کَثِیْرَ الْعَفْوِ وَالشَّفْقَۃِ وَالرَّحْـمَۃِ۔وَکَانَ یُعْرَفُ بِنُوْرِ الْـجَبْـھَۃِ ۱ (ترجمہ از مرتّب) خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ وہ مسیح موعود اور مہدی مسعود جس کا انتظار کرتے ہیں وہ تُو ہے۔ہم جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔پس تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔۲ (ترجمہ از مرتّب) اور فرمایا۔تو مامور ہے کہ ان لوگوں کو ڈرائے۔جن کے باپ دادوں کے پاس کوئی نذیر نہیں آیا تھا اور تاکہ مجرموں کی راہ اچھی طرح ظاہر ہوجائے۔۳ (ترجمہ از مرتّب) اور میرے ربّ نے مجھ پر یہ ظاہر کیا کہ صدیق ؓ اور فاروقؓ اور عثمان ؓ صالح اور مومن تھے اور ۳ (ترجمہ از مرتّب) اور میرے ربّ نے مجھ پر یہ ظاہر کیا کہ صدیق ؓ اور فاروقؓ اور عثمان ؓ صالح اور مومن تھے اور اُن لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے چُن لیا اور خدا تعالیٰ کی عطا سے مخصوص کئے گئے… اور مجھے خبر دی گئی کہ وہ صالحین میں سے تھے اور جس شخص نے ان کو ایذا پہنچائی تو اُس نے اللہ تعالیٰ کو ایذا پہنچائی اور وہ حد سے گذرنے والا ہوا۔۴ (ترجمہ از مرتّب) اور مجھے علم دیا گیا ہے کہ صدیق ؓ تمام صحابہؓ میں سے بڑی شان اور بلند مرتبہ رکھتے ہیں۔۵ (ترجمہ از مرتّب) وہ (یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) عارفِ کامل، عادۃً حلیم اور فطرۃً رحیم تھے۔خاکساری اور انکسار آپ کا شیوہ تھا اور عفو، شفقت و رأفت آپ کامعمول تھا اور آپ کی پیشانی سے نور ٹپکتا تھا۔آپ کا آنحضرت