تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 1089

تذکرہ — Page 209

شخص کون ہے۔ہاں یہ یقینی طور پر یاد رہا ہے کہ وہ دوسرا شخص اُنہیں چند آدمیوں میں سے تھا جن کی نسبت مَیں اشتہار دے چکا ہوں اور یہ یک شنبہ کا دن اور ۴ بجے صبح کا وقت تھا۔فَالْـحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذَالِکَ۔‘‘ (برکات الدّعا۔ٹائٹل پیج۔روحانی خزائن جلد۶ صفحہ ۳۳ حاشیہ) ۱۸۹۳ء ’’اللہ جلّ شانہٗ کی قسم ہے کہ مجھے صاف طور پر اللہ جلّ شانہٗ نے اپنے الہام سے فرما دیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بلا تفاوت ایسا ہی انسان تھا جس طرح اور انسان ہیں مگر خدا تعالیٰ کا سچا نبی اور اس کا مرسل اور برگزیدہ ہے اور مجھ کو یہ بھی فرمایا کہ جو مسیح کو دیا گیا وہ بمتابعت نبی علیہ السلام تجھ کو دیا گیا ہے اور تُو مسیح موعود ہے اور تیرے ساتھ ایک نُورانی حربہ ہے جو ظلمت کو پاش پاش کرے گا اور یَکْسِـرُ الصَّلِیْبَ کا مصداق ہوگا۔‘‘ (حـجّۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد۶ صفحہ ۴۹) ۱۸۹۳ء ’’وَ ؎۱اِنِّیْ رَئَیْتُ اَنَّ ھٰذَا الرَّجُلَ یُؤْمِنُ بِـاِیْـمَانِیْ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَرَئَیْتُ کَاَنَّہٗ تَرَکَ قَوْلَ التَّکْفِیْرِ وَتَابَ۔وَ ھٰذِہٖ رُؤْیَـایَ وَاَرْجُوْ اَنْ یَّـجْعَلَھَا رَبِّیْ حَقًّا۔‘‘۲؎ (حـجّۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد۶ صفحہ ۵۹) ۵؍ جون ۱۸۹۳ء ’’ آج رات جو مجھ پر کُھلا وہ یہ ہے کہ جبکہ مَیں نے بہت تضرّع اور ابتہال سے جنابِ الٰہی میں دعا کی کہ تُو اِس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کرسکتے تو اس نے مجھے یہ بقیہ حاشیہ۔کا نام منشی رام تھا اور مارے جانے کے وقت اُن کا نام شردھانند تھا۔اِسی و جہ سے حضرت صاحب کو اُن کا نام یاد نہ رہا۔پھر وہ لیکھرام کے بھی قائم مقام ہیں چنانچہ تیج (اخبار)نے لکھا ہے کہ جب لیکھرام کے قتل کی خبر جالندھر پہنچی تو سوامی شردھانند صاحب اپنا کام چھوڑ کر لاہور آگئے اور سوامی لیکھرام صاحب کا کام انہوں نے سنبھال لیا۔بہر حال آریوں میں سے بڑے پایہ کے لیڈر تھے بہت سی باتیں ان کے قتل کی لیکھرام صاحب کے قتل سے ملتی ہیں۔لیکھرام صاحب ہفتہ کے دن جمعہ وعید سے اگلے روز مارے گئے اور یہ جمعرات کو مارے گئے جو جمعہ کے ساتھ کا دن ہے۔وہاں بھی قاتل کمبل پوش تھااور یہاں بھی کمبل پوش ہی ہے۔وہاں بھی قاتل کو پہلے روکا گیا لیکن اس کو اندر جانے کی اجازت دی گئی اور یہاں بھی اسی طرح ہوا۔‘‘ (الفضل مورخہ ۱۱؍جنوری ۱۹۲۷ء صفحہ ۴) ۱ (ترجمہ از مرتّب) اور مَیں نے دیکھا کہ یہ شخص یعنی مولوی محمد حسین بٹالوی اپنے مرنے سے پہلے میرا مومن ہونا مان لے گا اور مَیں نے دیکھا کہ گویا اس نے مجھے کافر کہنا چھوڑ دیا ہے اور اس خیال سے توبہ کرلی ہے اور یہ میری رؤیا ہے اور مَیں امید رکھتا ہوں کہ میرا خدا اسے پورا کردے گا۔۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) اس پیشگوئی کے بیس برس بعد ۱۹۱۴ء میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے