تذکرہ — Page 210
نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اِس بحث؎۱میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہیں دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دِن ایک مہینہ لے کر یعنی ۱۵ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اُس کو سخت ذلّت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اُس کی اِس سے عزت ظاہر ہوگی اور اُس وقت جب پیشگوئی ظہور میں آوے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔‘‘؎۲ (جنگ مقدس مضمون حضرت اقدس ۵؍جون ۱۸۹۳ء۔روحانی خزائن جلد۶صفحہ ۲۹۱،۲۹۲) بقیہ حاشیہ۔ایک مقدمہ کے دَوران میں منصف درجہ اوّل ضلع گوجرانوالہ کی عدالت میں بیان دیتے ہوئے اور اسلام کے مختلف فرقوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھوایا کہ’’ یہ سب فرقے قرآن مجید کو خدا کا کلام مانتے ہیں اور یہ سب فرقے قرآن کی مانند حدیث کو بھی مانتے ہیں ایک فرقہ احمدی بھی اب تھوڑے عرصہ سے پیدا ہوا ہے جب سے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے دعویٰ مسیحیت اور مہدویّت کا کیا ہے یہ فرقہ بھی قرآن کو اور حدیث کو یکساں مانتا ہے… کسی فرقہ کو جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔ہمارا فرقہ مطلقاً کافر نہیں کہتا۔‘‘ (تفصیل کے لئے دیکھیے الفضل مورخہ ۱۱؍فروری ۱۹۱۴ء صفحہ ۳) ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یعنی مناظرہ مابین حضرت مسیح موعود علیہ السلام و ڈپٹی عبداللہ آتھم جو کتاب جنگ مقدس میں درج ہے۔۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) اِس پیشگوئی میں صاف طور پر ظاہر کیا گیا تھا کہ اگر آتھم حق کی طرف رجوع نہ کرے گا تو پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا سو چونکہ آتھم نے میعاد مقررہ کے اندر اسلام اور بانی ٔ اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق اپنی عادت کے خلاف بالکل خاموشی اختیار کرلی اور دیگر قرائن سے بھی ثابت کردیا کہ وہ پیشگوئی کی عظمت سے ڈر گیا اور اسلام کی حقّانیت سے مرعوب ہوگیا اِس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت مَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّ بَـھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ کے مطابق اس پر رحم کیا اور اُسے ہاویہ میں گرنے سے بچالیا لیکن چونکہ بعد میں اُس نے حضرت اقدس کے بار بار متوجہ کرنے حتیٰ کہ چار ہزار روپیہ تک انعامی اشتہار شائع کرنے پر بھی اظہارِ حق سے انکار کیا چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چار ہزار روپیہ کا انعامی اشتہار دیتے ہوئے تحریر فرمایا کہ ’’اب اگر آتھم صاحب قسم کھالیویں (کہ وہ پیشگوئی کے نتیجہ میں مرعوب نہیں ہوئے اور کسی جہت سے بھی رجوع نہیں کیا) تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مُبرم ہے اور اگر قسم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا جس نے حق کا اخفا کرکے دنیا کو دھوکہ دینا چاہا… اور وہ دن نزدیک ہیں دور نہیں۔‘‘ (اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ۔مجموعہ اشتہارات جلد۱ صفحہ ۵۷۸ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ’’اگر آتھم کو عیسائی لوگ ٹکڑے ٹکڑے