تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 1089

تذکرہ — Page 208

۲؍اپریل ۱۸۹۳ء ؎۱ ’’حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب… نے بھیرہ میں ایک عظیم الشان مکان بنوایا تھا… ابھی پورے طور پر وہ مکان طیار نہ ہوا تھا… جاڑہ کا موسم تھا مولوی صاحب چلتی ہوئی ملاقات کو آئے تھے۔رات کو حضرت امام کو وحی؎۲ ہوئی کہ مولوی صاحب کو ہجرت کرنی چاہیے۔چنانچہ صبح کو مولوی صاحب کو سنایا کہ ہجرت کرو اور وطن نہ جاؤ۔یہ صدّیق کا فرزند کوئی چگونگی درمیان نہ لایا۔مکان خراب ہوا۔مگر یہ مردِ خدا نہیں گیا۔‘‘ (خلاصہ خطبہ مولانا عبدالکریم صاحب ؓ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۲ مورخہ ۱۰ ؍ستمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۱) ۲؍اپریل ۱۸۹۳ء ’’آج جو ۲؍ اپریل ۱۸۹۳ء مطابق ۱۴؍ ماہِ رمضان ۱۳۱۰ ھ ہے۔صبح کے وقت تھوڑی سی غنودگی کی حالت میں مَیں نے دیکھا کہ مَیں ایک وسیع مکان میں بیٹھا ہوا ہوںاور چند دوست بھی میرے پاس موجود ہیں۔اِتنے میں ایک شخص قوی ہیکل مہیب شکل، گویا اُس کے چہرہ پر سے خون ٹپکتا ہے۔میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔مَیں نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک نئی خلقت اور شمائل کا شخص ہے گویا انسان نہیں ملائک شِداد غلاظ میں سے ہے اور اُس کی ہیبت دلوں پر طاری تھی اور مَیں اُس کو دیکھتا ہی تھا کہ اُس نے مجھ سے پوچھا کہ لیکھرام کہاں ہے؟ اور ایک؎۳اَور شخص کا نام لیا کہ وہ کہاں ہے۔تب مَیں نے اُس وقت سمجھا کہ یہ شخص لیکھرام اور اُس دوسرے شخص کی سزادہی کے لئے مامور کیا گیا ہے مگر مجھے معلوم نہیں رہا کہ وہ دوسرا شخص ۱ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) یہ تاریخ حضرت خلیفہ اوّلؓ کی جیبی بیاض میں (جو مولوی عبدالرحمٰن صاحب شاکرؔ کے پاس ہے) درج ہے۔۲ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) اِس وحی کا ذکر حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی سوانح حیات میں جو اکبر شاہ صاحب نجیب آبادی کو لکھوائی، یوں فرمایا۔’’مولوی عبدالکریم صاحب سے (حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے) فرمایا کہ مجھ کو نورالدین کے متعلق الہام ہوا ہے اور وہ شعر حریری میں موجود ہے۔لَاتَصْبُوُنَّ اِلَی الْوَطَنْ فِیْہِ تُـھَانُ وَ تُـمْتَحَنْ۔‘‘ (یعنی تو وطن کی طرف ہرگز رُخ نہ کرنا۔اس میں تیری اہانت ہوگی اور تجھے تکلیفیں اُٹھانی پڑیں گی) (مرقاۃ الیقین فی حیاۃ نورالدین) ۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) واقعات نے بتادیا کہ دوسرا شخص شردھانند تھا جو اس پیشگوئی کے مطابق دسمبر ۱۹۲۶ء کو عبدالرشید کاتب دہلوی کے ہاتھ سے مارا گیا۔شردھانند کے واقعہ قتل کے متعلق حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔’’ یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق ہے… دو شخصوں کے قتل کی پیشگوئی تھی ان میں سے ایک لیکھرام صاحب تھے اور دوسرے کا نام آپ کو اُس وقت یاد نہ تھا۔عجیب حکمت ہے کہ پہلے شردھانند صاحب