تذکرہ — Page 129
معلوم نہ تھا کہ یہ کس کی طرف اشارہ ہے۔آج آپ کے خط میں عبدالباسط دیکھا۔شاید آپ کی طرف اشارہ ہو؎۴۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔‘‘ (از مکتوب بنام حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۲۶ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اپریل ۱۸۸۷ء ’’ چند روز ہوئے میں نے اس قرضہ کے تردُّد میں خواب میں دیکھا تھا کہ میں ایک نشیب گڑھے میں کھڑا ہوں اور اُوپر چڑھنا چاہتا ہوں مگر ہاتھ نہیں پہنچتا۔اتنے میں ایک بندۂ خدا آیا، اُس نے اوپر سے میری طرف ہاتھ لمبا کیا اور میں اس کے ہاتھ کو پکڑ کر اُوپر کو چڑھ گیا اور میں نے چڑھتے ہی کہا کہ خدا تجھے اس خدمت کا بدلہ دیوے۔آج آپ کا خط پڑھنے کے ساتھ میرے دل میں پختہ طور پر یہ جم گیا کہ وہ ہاتھ پکڑنے والا جس سے رفع تردّد ہوا آپ ہی ہیں کیونکہ جیسا کہ میں نے خواب میں ہاتھ پکڑنے والے کے لئے دُعا کی ایسا ہی برقّتِ قلب خط کے پڑھنے سے آپ کے لئے مُنہ سے دلی دُعا نکل گئی۔مُسْتَجَابٌ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔‘‘ (از مکتوب بنام حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب ؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۳۳ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۸۷ء ’’ ایک دفعہ مولوی محمد حسین بٹالوی کا ایک دوست انگریزی خواں نجف علی نام (جو کہ کابل میں بھی گیا تھا اور شاید اب بھی وہاں ہے) میرے پاس آیا اور اُس کے ہمراہ مـحبّی مرزا خدا بخش صاحب؎۱ بھی تھے۔ہم تینوں سیر کے لئے باہر گئے تو راستہ میں کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا کہ نجف علی نے میری مخالفت اور نفاق میں کچھ باتیں کی ہیں چنانچہ یہ کشف اُس کو سنایا گیاتو اُس نے اقرار کیا کہ یہ بات صحیح ہے۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۸۴) ۱۸۸۷ء ’’ ایک دفعہ ہم ریل گاڑی پر سوار تھے اور لدھیانہ کی طرف جارہے تھے کہ الہام ہوا۔’’نصف ترا نصف عمالیق را‘‘ ۱ یعنی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری۔(شمس) ۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) اس پیشگوئی کے مطابق مرزا احمد بیگ ۳۰؍ستمبر۱۸۹۲ء کو بمقام ہوشیار پور فوت ہوگیا۔۳ یعنی مرزا امام الدین۔(مرزا بشیر احمد) ۴ (نوٹ از عرفانی صاحبؓ) حضرت حکیم الامت نے بارہا فرمایا کہ میرا الہامی نام عبدالباسط ہے۔(مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۲۶ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)