تذکرہ — Page 114
(ب)’’عرصہ چوداں برس کا ہوا ہے کہ ایک خواب آئی تھی کہ چار لڑکے ہوں گے اور چوتھے لڑکے کا عقیقہ پیر کے دن ہوگا۔‘‘ (از مکتوب بنام ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب۔مکتوبات احمد جلد ۴ صفحہ ۲۱۹ مطبوعہ ۲۰۱۵ء) ۱۸۸۵ء ’’میاں عبداللہ سنوری جو علاقہ پٹیالہ میں پٹواری ہیں ایک مرتبہ ان کو ایک کام پیش آیا جس کے ہونے کے لئے انہوں نے ہر طرح سے کوشش کی اور بعض وجوہ سے ان کو اس کام کے ہوجانے کی امید بھی ہوگئی تھی۔پھر انہوں نے دعا کے لئے ہماری طرف التجا کی۔ہم نے جب دعا کی تو بلاتوقف الہام ہوا۔’’ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘۱؎ تب میں نے ان کو کہہ دیا کہ یہ کام ہرگز نہیں ہوگا اور وہ الہام سنا دیا اور آخرکار ایسا ظہور میں آیا اور کچھ ایسے موانع پیش آئے کہ وہ کام ہوتا ہوتا رہ گیا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸صفحہ ۶۱۲) ۲۸؍نومبر۱۸۸۵ء ’’۲۸ نومبر۱۸۸۵ء کی رات کو یعنی اُس رات کو جو ۲۸نومبر۱۸۸۵ء کے دن سے پہلے آئی ہے اس قدر شہب کا تماشا آسمان پر تھا جو میں نے اپنی تمام عمر میں اس کی نظیر کبھی نہیں دیکھی اور آسمان کی فضا میں اس قدر ہزار ہا شعلے ہر طرف چل رہے تھے جو اُس رنگ کا دنیا میں کوئی بھی نمونہ نہیں تا میں اُس کو بیان کرسکوں۔مجھ کو یاد ہے کہ اُس وقت یہ الہام بکثرت ہوا تھا کہ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ؎۲ سو اُس رمی کو رمیِ شہب سے بہت مناسبت تھی۔یہ شہبِ ثاقبہ کا تماشا جو۲۸نومبر۱۸۸۵ء کی رات کو ایسا وسیع طور پر ہوا جو یورپ اور امریکہ اور ایشیا کے عام اخباروں میں بڑی حیرت کے ساتھ چھپ گیا لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ یہ بے فائدہ تھا لیکن خداوند کریم جانتا ہے کہ سب سے زیادہ غور سے اس تماشا کے دیکھنے والا اور پھر اس سے حظ اور لذّت اُٹھانے والا میں ہی تھا۔میری آنکھیں بہت دیر تک اس تماشا کے دیکھنے کی طرف لگی رہیں اور وہ سلسلہ رمی شہب کا شام سے ہی شروع ہوگیا تھا جس کو میں صرف الہامی بشارتوں کی و جہ سے بڑے سرور کے ساتھ دیکھتا رہا کیونکہ میرے دل میں الہاماً ڈالا گیا تھا کہ یہ تیرے لئے نشان ظاہر ہوا ہے۔اور پھر اُس کے بعد یورپ کے لوگوں کو وہ ستارہ دکھائی دیا جو حضرت مسیح کے ظہو رکے وقت میں نکلا تھا۔۱ (ترجمہ از ناشر) افسوس بہت سی آرزوئیں ہیں جو خاک میں مل گئیں۔۲ (ترجمہ) ’’جو کچھ تونے چلایا وہ تونے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۳)