تذکرہ — Page 113
نے غور سے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک خالی کرسی پڑی ہے مجھے اُس پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پھر میں بیدار ہوگیا۔‘‘ (الحکم جلد۷ نمبر۵ مورخہ۷ فروری۱۹۰۳ء صفحہ۱۴ کالم نمبر ۲ و البدر جلد۲ نمبر۶ مورخہ۲۷ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۴۲ کالم نمبر۱) ۵؍ اگست ۱۸۸۵ء ’’مرزا امام الدین و نظام الدین کی نسبت مجھے الہام ہوا ہے کہ اکتیس ماہ تک اُن پر ایک سخت مصیبت پڑے گی۔ان کے اہل و عیال و اولاد میں سے کسی مرد یا کسی عورت کا انتقال ہوجائے گا۔جس سے اُن کو سخت تکلیف اور تفرقہ پہنچے گا۔آج ہی کی تاریخ کے حساب جو تئیس۲۳ ساون مطابق۵؍اگست ۱۸۸۵ء ہے، یہ واقعہ ظہور میں آئے گا؎۱۔مرقوم۵؍اگست۱۸۸۵ء۔‘‘ (اعلان مورخہ ۲۰؍ مارچ۱۸۸۸ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۱۶۲ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۱۸۸۵ء (الف) ’’ قریباً چودہ برس کا عرصہ گذرا ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میری اس بیوی؎۲ کو چوتھا لڑکا پیدا ہوا ہےاور تین پہلے موجود ہیں اور یہ بھی خواب میں دیکھا تھا کہ اس پسر چہارم کا عقیقہ بروز دو شنبہ یعنی پیر ہوا ہے۔اور جس وقت یہ خواب دیکھی تھی اس وقت ایک بھی لڑکا نہ تھا۔یعنی کوئی بھی نہیں تھا اور خواب میں دیکھا تھا کہ اس بیوی سے میرے چار لڑکے ہیں اور چاروں میری نظر کے سامنے موجود ہیں اور چھوٹے لڑکے کا عقیقہ پیر کو ہوا ہے۔اب جبکہ یہ لڑکا یعنی مبارک احمد پیدا ہوا تو وہ خواب بھول گئے اور عقیقہ اتوار کے دن مقرر ہوا لیکن خدا کی قدرت ہے کہ اس قدر بارش ہوئی کہ اتوار میں عقیقہ کا سامان نہ ہوسکا اور ہر طرف سے حارج پیش آئے۔ناچار پیر کے دن عقیقہ قرار پایا پھر ساتھ یاد آیا کہ قریباً چودہ برس گذر گئے کہ خواب میں دیکھا تھا کہ ایک چوتھا لڑکا پیدا ہوگا اور اس کا عقیقہ پیر کے دن ہوگا۔تب وہ اضطراب ایک خوشی کے ساتھ مبدّل ہوگیا کہ کیوں کر خدا تعالیٰ نے اپنی بات کو پورا کیااور ہم سب زور لگار ہے تھے کہ عقیقہ اتوار کے دن ہو مگر کچھ بھی پیش نہ گئی اور عقیقہ پیر کو ہوا۔یہ پیشگوئی بڑی بھاری تھی کہ اس چودہ برس کے عرصہ میں یہ پیشگوئی کہ چار لڑکے پیدا ہوں گے اور پھر چہارم کا عقیقہ پیر کے دن ہوگا۔انسان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس مدت تک کہ چار لڑکے پیدا ہوسکیں، زندہ بھی رہیں یہ خدا کے کام ہیں مگر افسوس کہ ہماری قوم دیکھتی ہے پھر آنکھ بند کرلیتی ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام سیٹھ عبدالرحمٰن صاحبؓ مدراسی۔مکتوبات احمدجلد ۲ صفحہ ۳۹۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’چنانچہ عین اکتیسویں مہینہ کے درمیان مرزا نظام الدین کی دختر یعنی مرزا امام الدین کی بھتیجی بعمر (پچیس )سال ایک بہت چھوٹا بچہ چھوڑ کر فوت ہوگئی۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۱۶۲ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۲ حضرت اُمّ المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔(شمس)